ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 9
اب ایک سمجھ دار عقلمند انسان اندازہ لگا سکتا ہے کہ انسانیت کے اعلیٰ پایہ کا ثبوت کس قوم نے دیا اور کس نے انسانی حالت سے گھٹیل کام دکھایا۔یہ ایک نقطہ معرفت ہے۔اگر انسان کو سچائی کسی طرح سے بھی نہ سمجھ میں آوے اور حق اور باطل میں وہ تمیز نہ کر سکے تو اس کو چاہیے طرفین کے حالات ، عمل و اعتقادات پر نظر ڈال کر دیکھے کہ آیا ان دونوں میں سے پاکیزگی اور طہارت کا پہلو کس قوم نے اختیار کیا ہے اور کون اسوئہ حسنہ ہے جو موجود ہے۔درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔یہ دیکھ لے کہ وہ حالات خدا کے برگزیدوں میں آنحضرتؐ کی زندگی میں یا صحابہ کرام کے حالات میں یا تابعین تبع تابعین کی زندگی میں اس کا اسوہ ملتا ہے یا کہ نہیں۔اگر وہ علامات نہیں پائے جاتے تو بات صاف ہے یہاں دلائل کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی تو صرف اتنا دیکھنا اور مقابلہ کرنا رہ جاتا ہے کہ آیا خدا کی ربوبیت کے نیچے رہ کر کام کرنے والی قوم کیا کام کرتی ہے اور ان کے اعمال کیسے ہیں اور اس کے بالمقابل خدائی ربوبیت سے باہر رہ کر چلنے والی قوم کے اعمال کیا ہیں اور اس کی زندگی کس انداز پر چلتی ہے؟ خدا کی ربوبیت سارے کام کرتی ہے ہر آن اور ہر زمان میں وہ کام کرتی ہے اور وہ کبھی معطل و بیکار نہیں رہتی۔فرمایا۔یہی وجہ ہے کہ ہمارا تو ایمان ہے اگر ایک وقت میں بعض انسان بعض تکالیف میں ہیں نہیں تو اس سے یہ نتیجہ نہیں اخذ کیا جاسکتا کہ واقعی وہ خدا کے غضب کے نیچے ہیں بلکہ روح انسانی ہمیشہ کی ترقیات کے واسطے بنائی گئی ہے اگر آج کمزوری ہے تو وہ کل دور ہوسکتی اس دنیا کی تنگیوں و تکالیف کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔تلافی کے واسطے دوسرا جہاں بھی موجود ہے۔فرمایا۔ہمیں تو اللہ کے اس فضل کی یاد سے بڑا سرور اور راحت ہوتی کہ اس نے قوم میں کیسی وحدت بخشی ہے اس کا نمونہ دنیا میں کسی جگہ نہیں ملتا ایک طرف تو دشمن حضرت مرزا صاحبؑکی وفات کو بے وقت بے وقت کہتے ہیں دوسری طرف قوم پھر بھی ایک ہی رسی میں اور ایک ہی جھنڈے کے نیچے جمع ہو رہی ہے۔یہ خدا کا خاص فضل ہے اور حضرت مرزا صاحبؑ کی صداقت کے واسطے ایک زندہ