ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 104
مسلمانوں نے کیا کیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(ابراہیم:۸) یہاں کا لام اور نون مشدّد قابل غور ہیں۔مگر عالیجاہ! حضو رنے صاف لکھا ہے ’’ یہی ایک خدمت علماء سے اگر ہوئی تو کیا ہوئی! ‘‘ حضرت نواب یہ کلمہ شکر گزاری کا نہیں۔اس ملک میں ہزاروں ہزار آدمی صرف ان مناظروں کے باعث مسیحی ہونے سے بچ گئے وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔برے چلن اور اخلاق ذمیمہ ، خصائل رذیلہ کا استیصال علوم حقّہ سے قابل قدر اور سرسید کی محنتیں ہمارے سامنے ہیں مگر ان کے دارالاقامۃ میں ابھی تک ایمان باللہ و رسلہٖ، اقامۃ الصلوٰۃ ، ایتاء الزکوٰۃ، پابندی صوم و حج کا جو حال ہے وہ جناب عالی اور ہم لوگوں سے مخفی نہیں۔بھلائی بھلائی ہے اور ضرور ہے مگر ایمانی جوش اور حضرت نبی کریم ﷺ کی اتباع وہاں ہنوز دہلی دور است۔کسی محسن کی احسان فراموشی کفران نعمت ہے۔مجھ خاکسار کی سید سے خط وکتابت رہی ہے۔میں نے ان کو ایک بار کسی تقریب پر عرض کیا تھا۔جاہل علم پڑھ کر عالم بنتا ہے اور عالم ترقی کر کے حکیم ہو جاتا ہے۔حکیم ترقی کرتے کرتے صوفی بن جاتا ہے۔مگر جب صوفی ترقی کرتا ہے تو کیا بنتا ہے قابل غور ہے۔جس کے جواب میں سر سید نے لکھا کہ وہ نور الدین بنتا ہے۔غرض اس کہانی سے صرف یہ ہے کہ ہم اُن سے اور وہ ہم سے بے خبر نہ تھے جناب نے تکلیف فرما کر ان کا ذکر کیا اور ان کے ذکر پر زور دیا ہے اس لئے تعارف کا تذکرہ کر دیا ہے۔جناب عالی ! مولوی بارہ لاکھ روپیہ جمع کرے گا تو افسوس ہے کہ وہ مولوی آپ کی نگاہ میں مولوی نہ رہے گا۔مہدی علی مولوی تھے۔چراغ علی مولوی تھے۔عمائد علماء لکھنو مولوی تھے۔مگر جب روپیہ آیا تو نواب محسن الملک۔ممتاز جنگ۔قبلہ و کعبہ۔سرکاردولت مدارمجتہد العصر ہو گئے۔آخر میں مولوی صدیق حسن گزرے ہیں۔روپیہ آیا تو نواب کہلائے۔صدیق تخلص اڑا دیااور نواب اس کے قائم مقام ہو گیا۔بھلا یہ خاکسار لاکھوں والے لوگوں کو مولوی کہہ سکتا ہے۔ہرگز ہرگز نہیں۔( مولوی تحقیر کا کلمہ ہے اور آپ کے نزدیک بھی )بلکہ مجھے تو تعجب ہو اہے کہ ملازمان والا نے صاحب عصر جدید اور مہتمم ندوۃ العلماء دونوں کے نام پر مولوی کا لفظ لکھ دیا ہے۔شبلی صاحب کا سفر نامہ حضور نے غور سے نہیں پڑھا واِلاّ اس