ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 105
میں مولوی لفظ کی جو مٹی پلید کی ہے اسے پڑھ کر آپ ضرور ہنستے۔اور یہ امرا کا مشغلہ ہے اگر یہی تدبیریں قومی ترقی کی ہیں جو حضور نے لکھی ہیں تو بے ادبی معاف ہو۔آپ کا محمڈن کالج، آکسفورڈ ، کیمبرج کا مقابلہ نہ کر سکے گا۔امریکہ، جرمن کی یونیورسٹیاں فراموش ہوں۔پس اسلام در گو ر ہے بلکہ ہندوستان سے اسلام کا مقابلہ سوال ہے۔جس قدر آپ ترقی کریں کر لیں۔یورپ و امریکہ کو چھوڑ ہندوؤں سے مقابلہ بھی خواب وخیال ہو گا۔اسلام مال سے نہیں اخلاص سے ترقی کر چکا اور کرے گا۔ایمان ، اعمال صالح سے وابستہ ہے۔مجھے حضور نے دو لاکھ جمع کرنے کی ترغیب فرمائی ہے۔آپ نواب، رئیس اعظم ، ہونہار ، نوجوان، لاکھوں جمع کرنے والوں کے فدائی ذرا مجھ غریب کی سنئے۔قرآن کریم فرماتا ہے۔ (الانعام: ۱۲۴)۔اور فرماتا ہے۔(ھود: ۲۸)‘‘ اور فرماتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں۔(الزخرف:۳۲)۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے علم و فضل بخشا ہے اور مال کو اللہ تعالیٰ نے خیر و فضل فرمایا ہے اور(البقرۃ:۲۰۲) ابوالحنفاء نے دعا سکھائی ہے اور ہم مانگتے ہیں۔گو سر سید دعا کا نتیجہ حصول مراد نہیں مانتے تھے مگر میں بخلاف اُن کے دعا کو سبب حصول مراد ات مانتا ہوں۔ایک پیسہ جمع کرنا بھی ناپسند کرتا ہوں اور یہ واقع ہے کہ پھر باایں آپ کے سر سید بھی میری عزت کرتے تھے اور بہت کرتے تھے۔محسن الملک اور ان کے بازو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔حضور کسی امام و مصنف کا نام اسلام میں بتا سکتے ہیں جس نے ان روپیوں کے ذریعہ اسلام کو دنیا میں پھیلا یا۔لائبریری کا عالیجاہ! آپ کو شوق ہے مگر صرف ہندوستان میں صرف میری لائبریری ہے جسے سر سید احمد خان اور مولانا شبلی نے بحمد اللہ ضرور فائدہ اٹھایا ہو گا یا ہے۔ایک تو دنیا سے چل بسے دوسرے موجود ہیں آپ ان سے دریافت فرما سکتے ہیں۔