ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 373
مامور من اللہ کی بعثت کے وقت شہاب ثاقب کے ٹوٹنے میں سِر دیکھو جب دنیا میں کوئی بڑا عظیم الشان تغیر واقع ہونے والا ہوتا ہے اور کسی انسان کو خلعت نبوت ماموریت ملنے والا ہوتا ہے تو آسمان پر کثرت سے شہاب ثاقب ٹوٹا کرتے ہیں۔اس میں بھی سرّ اور راز حقیقت ہوتا ہے۔باریک بین اور عقلمند انسان اس نشان سے سمجھ جاتے ہیں کہ اب دنیا میں ضرور کوئی نہ کوئی بڑا پاک باز انسان ظلمت کا دشمن بے تمیزی کی روحوں کو ہلاک کرکے نور اور تمیز اس کی جگہ قائم کرنے کے واسطے آنے والا ہے۔آسمان پر اس تغیر اور کثرت سے شہاب ثاقب ٹوٹنے اس امر کی صریح اور بیّن دلیل ہوتی ہے کہ زمین پر بھی ضرور کوئی نہ کوئی عظیم الشان تغیر واقع ہونے والا ہے اور کوئی بڑا عظیم الشان مصلح اور مجدد آنے والا ہے جو ظلمت کا دشمن اور نور کا حامی ہوتا ہے۔ظلمت سے بچنے کی دعاہر روز کرنے کا حکم پس چاہئے کہ دعاؤں میں لگے رہو کہ خدا تمیز عطا کرے اور ہر ظلمت سے بچاوے۔باربار اس قدر لمبے مضامین نہ سنائے جاسکتے ہیں اور نہ ہی آپ لوگوں کو سننے کا موقع ملتا ہے۔میں آپ لوگوں کو ایک سہل راہ بتاتا ہوں۔دیکھو ہمارے تمہارے اندر بھی جنّ ہیں۔اب بڑا حِصّہ عمر کا گزر چکا ہے اور تھوڑا باقی ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ پھر بھی غفلت سراٹھانے نہیں دیتی۔پس ان ظلمتوں کے جلانے کے واسطے بڑا پکا اور سچا مواتا (شہابثاقب) استغفار، توجہ، لاحول اور الحمد کی دردمندانہ دُعائیں اور گداز ہو ہو کر درود پڑھنا ہے اور دُعائیں کرنا اور رحمت الٰہی کے نزول کی راہیں تلاش کرتے رہنا چاہئے۔جو تڑپ اور سچے دل سے دُعائیں کرتا ہے خدا اس کے اندر ایک نور پیدا کردیتا ہے جو اس کے کل کاروبار میں اس کا راہبر ہوتا ہے۔خواہشات نفسانی کی پیروی سے ظلمت آتی ہے اور وہ تباہ کردیتی ہے۔ایک آنکھ کے اندھے کے سامنے عمدہ سے عمدہ ایرانی قالین رکھ دو مگر اس کے خوشنما رنگ اور خوبصورت بیل بوٹے اس کے واسطے کسی کام نہیں۔اس کے دل کو آنکھ کو ان سے کوئی مسرت نہیں پہنچ سکتی۔اس طرح جو انسان ظلمت میں گھرا ہوا ہو خواہ کتنی ہی نصیحت کرو، کیسے ہی عمدہ عمدہ پیرایوں میں وعظ کرو مگر اس کے