ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 372 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 372

اس طرح سے رشوت لے لے کر مکان بنواکر اس میں رہتا بھی ہے یا کہ نہیں۔پھر اس شخص نے مجھے بتایا کہ اینٹ میں سے اینٹ اور پتھر میں سے پتھر اور لکڑی میں سے لکڑی سب کچھ اس شخص نے چورایا ہے اور مکان کا مصالح جمع کیا ہے۔خدا کی قدرت وہ اونٹ والے بوجھ تو لے گئے مگر شان ایز دی کہ اس شخص کو وہ مکان دیکھنا تک بھی نصیب نہ ہوا اور جان نکل گئی شنید نہیں بلکہ دید ہے۔خیرات اور صدقہ کا رواج ہوتا ہے مگر اس کو مرتے دم وہ بھی نصیب نہیں ہوا۔نوکر سے چائے منگائی ہے وہ چائے کی پیالی لے کر آیا دیکھتا کیا ہے کہ وہ مرا پڑا ہے۔یہ کوئی قصہ کہانی اور ناولوں کی بات نہیں بلکہ واقعہ ہے اور دید کا نہ کہ شنید کا۔پس عبرت پکڑنی چاہئے اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی چاہئے کہ وہ ہر قسم کی ظلمت کو دور کرکے سچا نور اور ملکہء تمیز عطا کرے۔ظلمتوں میں گرفتار انسان کے لئے امر بشارت رات کے گھٹا ٹوپ اورگھپ اندھیرے میں اللہ تعالیٰ انسان کو ایک نظارہ دکھاتا ہے اور وہ کیسا خوش منظر ہوتا ہے۔باریک بین طبیعت اور انتقال کرجانے والی طبیعتیں اس سے عبرت پکڑتی ہیں اور ایک دوسری بات جس کا روح سے تعلق ہوتا ہے حاصل کرلیتی ہیں۔حسب لیاقت اور حسب استطاعت اپنی اپنی جگہ پر کوئی اپنی عقل کے مطابق فائدہ اٹھاتا ہے۔انبیاء کی عقل چونکہ سب سے زیادہ تیز ہوتی ہے اور وہ بڑے ہی باریک بین ہوتے ہیں وہ اور بھی آگے نکل جاتے ہیں اور ان کو دور کی سوجھتی ہے۔انسان خواہ کیسا ہی ظلمتوں میں گرفتار ہو اور کیسی ہی ضلالت میں مبتلا ہو کیسے ہی مشکلات دینی یا دنیوی میں پھنسا ہوا ہو۔اس کے واسطے یہ امر ایک بشارت ہے کہ اگر ذرا سا بھی مادہ سعادت اور رشد اور نورقلب اس میں باقی ہے تو ہدایت پاجانا ممکن ہے اس لئے نا امید نہیں ہونا چاہئے بلکہ دُعاؤں میں لگ جانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ اس ذرا سی قوت تمیز اور نور کو بڑھاکر اس سے ہر ظلمت، جہل، رسم و رواج، عقائد، مشکلات، غرض ہر قسم کی ظلمت کو پاش پاش کرسکتا ہے کیونکہ خود اس نے فرمایا ہے کہ(ابراھیم : ۸)