ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 368
کبوتر باز، مرغ لڑانے والے، پتنگ اڑانے والے، بٹیر باز، غافل، کاہل، چور، لڑکوں سے زنا کرنے والے بدمعاش ہیں ان سب میں جنّ اور شیطان کی ایک صفت کام کرتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو جو کہ ایک کبوتری کے پیچھے بھاگا جاتا تھا فرمایا کہ شَیْطَانُ یَتَّبِعُ شَیْطَانًا (سنن ابن ماجہ باب اللعب بالحمام جزء۲ صفحہ۱۲۳۸)۔شیطان وہ روح ہے جو خدا سے دور ہلاک شدہ اور خدا سے غافل ہو۔غرض باریک در باریک موذی روح کا نام شیطان ہے۔کالا کتا … یہ بھی شیطان ہے کیونکہ جس کو کاٹتا ہے بہت تکلیف دہ اور ضرر رساں ہوتا ہے۔اسی طرح جو امور انسان کو غافل کرنے والے اور ہلاک کرنے والے ہوتے ہیں ان کو بھی شیطان اور جنّ سے تشبیہ دی ہے مثلاً وہ عورت جو کسی گلی کوچے یا تنہا بازار میں پھرتی ہو اس کے متعلق بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اَلنِّسَائُ حَبَائِلُ الشَّیْطَان (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری باب ما یتقی من شؤم المرأۃ جزء ۲۹ صفحہ۲۲۹)۔عورتیں شیطان کی رسیاں ہوتی ہیں۔جس طرح کسی کے گلے میں رسہ ڈال کر کسی کو کھینچ لیا جاتا ہے اسی طرح اس طرح کی عورتیں بھی چونکہ انسان کو غفلت اور گناہ کی طرف راغب کرتی ہیں۔ان کو بھی حبائل الشیطان کرکے فرمایا ہے۔چنانچہ انبیاء کی اصطلاح بن گئی کہ عورت حبل الشیطان ہے۔غرض جنّ باریک در باریک ضرر رساں روح کا نام ہے۔اس کو ظلمت سے پیار اور نور سے نفرت و عار ہوتی ہے۔ظلمت اور اندھیرے میں وہ جانور اور روحیں خوش ہوتی ہیں اور کھلے پھرتے ہیں مگر نور میں پوشیدہ ہوجاتے ہیں اور نور سے کوسوں بھاگتے ہیں۔موٹی سی بات ہے کہ شیر، چیتے وغیرہ موذی جانور دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کے وقت اپنی کمین گاہوں سے نکل کر شکار کرتے ہیں۔مچھر، پسّو، چڑیں سب موذی جانور ہیں ان کا زور شام کے بعد اندھیرے کی سلطنت میں ہوتا ہے۔نور سے ان کو کوئی تعلق نہیں۔دیکھو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خلق خدا کے واسطے رحمت اور ابر بہار تھے اور خیرخواہی اور بہی خواہی کے بہترین نمونے تھے آپ نے فرمایا ہے کہ شام کے وقت بچوں کو گھر سے