ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 369
باہر نہ جانے دو۔اس وقت بوجہ ظلمت شیاطین کا زور اور غلبہ ہوتا ہے۔گھروں کے دروازے بند کردو۔کھانے پینے کی چیزوں کے برتن ڈھانک دو۔ڈھکنا نہ ملے تو اللہ کا نام لے کر ایک لکڑی ہی رکھ دیا کرو۔اس حکم کا بھی یہی منشاء ہے کہ ظلمت اور اندھیرے کے وقت چونکہ جنّ اور شیاطین کا غلبہ ہوتا ہے وہ ان چیزوں پر حملہ کرتے ہیں۔اگر دروازے بند اور برتن ڈھکے ہوں تو وہ ٹکر کھا کر واپس ہوجاتے ہیں اور اہل خانہ اور خوردونوش کی چیزیں ان کے دخل و تصرف سے محفوظ رہتی ہیں۔ایسے گھر جن میں احکام شریعت کی پابندی ہوتی ہے وہاں ان باتوں پر عمل درآمد ہوتا ہے اور وہ ان کے ضرر سے محفوظ بھی رہتے ہیں۔غفلت بھی ظلمت اور اندھیرے کا ایک شعبہ ہے۔دیکھو انسان، حیوان، پرند، چرند، سب غافل ہوجاتے ہیں۔یہ سب اندھیرے ہی کا اثر ہوتا ہے۔پھر جب پو پھٹنے لگتی ہے اور ذرا اجالا ہوتا ہے تو سب جانور پرندے پھڑپھڑاتے ہیں اور ہوش سنبھالتے ہیں۔غفلت دور ہوتی ہے اور پھر جوں جوں نور ترقی کرتا ہے غفلت دور ہوتی جاتی ہے اور نور تمیز بڑھتی جاتی ہے۔شراب خوار عیسائی قوم بہت دن چڑھے تک غفلت کے لحافوں میں پڑے سوتے ہیں۔آخر جب روشنی بہت زور پکڑ جاتی ہے تو وہ بھی چونک اٹھتے ہیں۔شراب کو چونکہ ظلمت اور شیطان سے ایک تعلق ہے اس واسطے وہ اپنا دباؤ ان پر ڈالے رکھتی ہے اور ایک حِصّہ دن میں بھی ان پر غفلت طاری رہتی ہے۔مگر آخرکار جب نور اپنے کمال پر پہنچ جاتا ہے تو ظلمت غفلت کو پاش پاش کردیتا ہے۔روشنی کو چونکہ غفلت سے ایک ضد ہے۔اس واسطے غفلت اور روشنی جمع نہیں ہوسکتیں۔روشنی کو تمیز سے اور اندھیرے کو بے تمیزی سے تعلق ہے۔جتنے بھی باریک کام کرنے والے ہیں۔مثلاً گھڑی ساز یا بہت باریک قسم کی کتابت کرنے والے، ڈوری باف وغیرہ یہ سب لوگ روشنی میں کام کرتے ہیں اور پھر اپنی طاقت تمیز کو اور بھی بڑھانے کے واسطے ایک قسم کے شیشے سے کام لیتے ہیں جسے وہ اپنی آنکھ کے آگے لگا لیتے ہیں اور اس کے ذریعہ سے قوت امتیاز میں ترقی ہوجاتی ہے۔اب ان باتوں کے بعد رات جو کہ اندھیرے اور ظلمت کا گھر ہوتی ہے اس میں جو بعض