ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 365 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 365

کے وسائل تلاش کرنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔میری عمر اس وقت قریباً ستّر برس کی ہے۔میرے پاس سینکڑوں خط آتے ہیں۔ان کو میں خوب پڑھتا ہوں۔بعض اوقات جواب دینے سے ہی حیران ہوجاتا ہوں مگر جواب دیتا ہوں۔ان میں جب کوئی سوال ہوتا ہے تو یہی ہوتا ہے کہ آدم کیسے پیدا ہوا۔حوّا کیسے پیدا ہوئی۔وہ کیا چیز تھی جس سے ان کو روکا گیا تھا۔نوح کے وقت میں طوفان کیا ساری دنیا پر آگیا تھا کیا ساری دنیا پر طوفان آنا ممکن ہے یا کہ نہیں۔ان کی کشتی میں کیا شیر ببر بھی تھے۔ابراہیمؑ کو کیا سچ مچ آگ میں ڈال دیا تھا اور وہ کس طرح آگ میں سے زندہ بچ نکلے۔پھر حضرت یوسف کے قصے کو تو لوگوں نے زلیخا کا قصہ رنگارنگ میں لکھ کر اور بھی پیچیدہ کردیا ہے۔غرض اس طرح کے ہزاروں سوال ہوتے ہیں۔نہیں ہوتا تو یہی سوال نہیں ہوتا کہ روح کی اصلاح اور نجات کس طرح سے ہوسکتی ہے۔عقائد ِصحیحہ کس طرح مل سکتے ہیں۔ایمان کامل کیسے ہوسکتا ہے فکر نہیں تو کس کی، آخرت کی، اور خدا کے سامنے جاکر حساب کتاب دینے کی۔جس کو دیکھو ادھر کی باتوں میں مبتلا ہے آخرت کی فکر ہی نہیں۔کبھی کوئی سوال نہیں کرتا کہ نماز کی حقیقت کیا ہے۔اس کے معانی و مطالب کیا ہیں۔غرض ان سب باتوں سے نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ہم بھی یوسفؑ کی طرح خواب پوچھنے والوں کو ایک اور اصلی اور ضروری امر کی طرف لے جاویں۔یاد رکھو کہ قرآن شریف اور کل انبیاء کا اصل منشاء اللہ کو منوانا اور اس کی فرمانبرداری کرانا ہے اور دوسرا حصہ ان کی پاک تعلیمات شفقت علی خلق اللہ ہے۔ان کی ساری کوشش حق اللہ اور حق العباد کی بجاآوری میں ہے۔دیکھو ہر عبادت کا بھی یہی خلاصہ ہے۔نماز ہے سو اللہ کے نام سے شروع ہوکر اللہ ہی کے نام پر ختم ہوتی ہے اور حق اللہ کی ادائیگی کے سبق اس میں کوٹ کوٹ کر بھرے گئے ہیں۔پھر اپنے محسنوں کے لئے دُعائیں ہیں السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہ السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَکہہ کر حق العباد ادا کرنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ایک طرف اگر دنیا کے واسطے ہے تو ساتھ ہی (البقرۃ :۲ ۲۰)