ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 364
موقع کو غنیمت جان کر تبلیغ کرنے لگ گئے ہیں۔ارے بھائی میں تمہیں اس کی تعبیر تمہارا کھانا آنے سے پہلے ہی بتا دوں گا۔بھلا تمہیں خبر بھی ہے کہ مجھے علم تعبیر کیسے آیا۔اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ میں نے کفرو شرک اور بے دینی کا مذہب چھوڑ کر توحید کا مذہب اختیار کرلیا ہے جو کہ ابراہیمؑ، اسحٰق اور یعقوب جیسے پاک بزرگوں کا مذہب ہے۔غور کا مقام ہے کہ شرک تو ہمیں کسی حالت میں بھی کرنا جائز و روا نہیں۔خدا کا یہ فضل ہے کہ اس نے مجھے شرک سے بچنے کی توفیق دی اور پھر مجھ پر انعام و اکرام کئے۔اے میرے صاحبو! بھلا غور کرو کہ ایک خدا کی فرمانبرداری اور عبادت اچھی ہے یا کہ کئی مختلف ارباب بنا لینے اچھے ہیں۔شرک تو ایک ایسی بے دلیل نیرہ ہے کہ خدائی تائید اس کے شامل حال ہی نہیں اور کوئی محبت نیرہ اور دلیل قاطعہ اس کے ماننے والوں کے پاس نہیں ہے۔پس تم بھی خدائی فیصلہ کو مانو اور اس کے حکم کی فرمانبرداری کرو اور شرک سے توبہ کرکے ایک خدا کی پرستش کرو۔توحید کی راہ ہی ایک مضبوط اور سیدھی راہ ہے۔غرض اس طرح سے ایک لمبا اور باریک در باریک رنگ کا ان کو وعظ کیا۔اوّل خدا پر ایمان لانے اور شرک سے اجتناب کرنے کی تاکید فرمائی اور پھر رسالت اور نبوت کی طرف دعوت کی کیونکہ توحید پایہ ثبوت کو نہیں پہنچ سکتی بجز نبوت کے اور کوئی ایمان قوی اور زندہ نہیں رہ سکتا بجز ایمان نبوت کے اور کوئی نجات حاصل نہیں ہوسکتی سوا نبوت کو ماننے کے۔اس طرح سے توحید اور رسالت کا وعظ کرچکنے کے بعد ان کو تعبیر رؤیا بتادی۔وہ بیچارے قیدی حیران ہوتے ہوں گے کہ پوچھی ہم نے خواب کی تعبیر اور اس نے وعظ شروع کردیا مگر اصل بات یہی ہے کہ ان لوگوں کو جب کوئی موقع مل جاوے یہ روح کی نجات کی کوشش کرتے ہیں۔اس زمانے میں یہ بہت بڑی بھاری غلطی ہے کہ کسی کے دل میں روح کی نجات کے واسطے اور ایمان کی مضبوطی اور عقائد صحیحہ کے حصول کے واسطے کبھی تڑپ ہی نہیں پیدا ہوتی بلکہ جس طرح انبیاء کا گروہ ادھر ادھر سے پھیر پھار کر نجات روح اور ایمان باللہ کی طرف بات کو لے آتے ہیں۔آج کل کے لوگ اپنی ہر بات میں دنیا کو اور روپیہ کے کمانے کے وسائل کو مقدمات میں، کامیابی