ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 344 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 344

طب اور طبیب طب میں اضطراب ،دعا، توجہ الی اللہ، اخلاص، تضرع اور اپنی کم علمی، کم فہمی سمجھنے کا خوب موقع ملتا ہے اس لیے علاج کی جستجو میں الہام الٰہی بھی ہو جاتا ہے اگر تقویٰ، رحم، فکر، اسباب و علامات کی جستجوجو ضروری ہے ساتھ مل جاویں تو موجب نجات ہے اور ایک ہی علاج دین میں اور ایک ہی دنیا کے لیے کفایت کر جاتا ہے۔قرآن کریم نے اس علم کے اصول پر علماً اور خاتم الانبیاءﷺ نے عملاً توجہ دلائی بڑے بڑے ڈاکٹروں میں معالج بننا معیوب نہیں وہ خود پسندی کے باعث پیچھے اور منکسر متوجہ الی اللہ آگے نکل جاتاہے۔طبیب اگر کامیابی تک نہ پہنچے تو مت گھبراوے کیونکہ طبیب کا کام تقدیر کا مقابلہ کرنا نہیں بلکہ ہمدردی اور غم خواری۔انسان جمادات ،نباتات اور حیوانات کی طرح بے فکر اور کھانے والا نہیں بنایا گیا۔فکر ،فکر، فکر، تردد، تردد،تردد کرو۔مٹی کا برتن ٹوٹنے سے جتنا رنج ہوتاہے اس کا عشر عشیر ارتکا ب معاصی سے نہیں ہوتا۔اسلامیوں نے تشریح کی طرف کم توجہ کی ہے لیکن فکر سے اتنا کام لیا ہے کہ ان کے لاعلاج اب تک لاعلاج ہیں۔فلاسفر اور ملہم میں فرق عقل کو کافی سمجھنے والا اور نیچر کا محقق اللہ پر اس کی دریافت کا احسان کرتا ہے بخلاف اس کے ملہم اللہ تعالیٰ کا احسان مانتا ہے۔لوگ دنیوی ترقی کو مقصود بالذات بناتے مگر ضروری غیر محدود ترقی سے بے پروا ہیں۔لوگ دنیوی آرام کے لیے جان دینے کو طیار مگر آخرت کے لیے کاہل و سست ہیں۔لوگ اگر ان کے والدین کو کوئی گالی دیوے ان کی حقارت کرے تو آگ بگولہ ہو کر کیا نہیں کرتے مگر رسول کریم ﷺ کے متعلق گالیاں سن کر کہتے ہیںبکنے دو، احمق ہے۔