ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 345 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 345

لوگ ایک انجمن کا نام فرضی رکھتے ہیںاور اس کے کاموں میں عزت، فخر، خوشی وغیرہ وغیرہ یقین کرتے ہیں مگر تعجب کہ قرآن مجید جیسی نور، رحمت، فضل، روح، ہدایت کی طرف توجہ دلاتے ہیں تو آگ ہو جاتے ہیں۔بدی اور اعتقاد فاسدہ بدی کو انسان بدی مانتا ہے اس لیے ممکن ہے کہ کبھی نجات پاوے مگر اعتقاد فاسدہ کو برا نہیں جانتا اس لیے اس سے امید نجات کیونکر ہو؟ (الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۱ مورخہ ۳۱ ؍ اگست ۱۹۰۷ء صفحہ۳ ) نماز تراویح کی نسبت فرمان مورخہ ۲۰؍اکتوبر ۱۹۰۷ء کو درس قرآن شریف کے بعد ایک نووارد صاحب نے حضرت حکیم الامت سلّمہ ربّہٗ سے استفسار کیا کہ نماز تراویح کی نسبت آپ کیا فرماتے ہیں۔حضرت حکیم الامت نے فرمایا کہ میرے خیال میں ماہ رمضان میں ایک تو روزوں کا حکم ہے دوسرے حسب طاقت دوسروں کو کھانا کھلانے کا، تیسرے تدارس قرآن کا، چوتھے قیام رمضان کا، کیا معنی نماز میں معمول سے زیادہ کوشش۔صحابہؓ میں تین طریقے قیامِ رمضان کے رائج تھے بعضے تو بیس رکعتیں باجماعت پڑھتے تھے بعضے آٹھ رکعتیں اور بعض صرف تہجد ہی گھر میں پڑھ لیتے۔اس پر نووارد صاحب نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تو نماز تراویح کا پڑھنا تین چار دن سے زیادہ ثابت نہیں ہوتا اس لئے بعض لوگ اسے بدعت عمریؓ کہتے ہیں۔حضرت حکیم الامت نے فرمایا کہ خواہ آنحضرت نے صرف ایک دن ہی نماز تراویح پڑھی ہو سنت تو ہوگئی۔دوام نہ کرنے سے سنت تو نہیں ٹوٹتی۔ہاں فرضیت ثابت نہیں ہوتی مگر سنّت پر عمل کرنا بھی تو چاہیے اور یہ جو آپ نے بدعتِ عمری کہی ہے اس میں ہرج کیا ہے چلو بدعتِ عمریؓ ہی سہی خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔(التوبۃ : ۱۰۱) اس آیت سے عمرؓ کی اتباع کا بھی تو حکم ہے ان کے سینکڑوں احکام کی اتباع جو صحابہ رضی اللہ عنہم کرتے تھے تو