ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 342
حیرت کے ساتھ لکھا ہے کہ مرض رفتہ رفتہ نہیں بلکہ یکایک جاتا رہا اور خاندان کے تمام آدمی بڑی خوشیاں کررہے ہیں ہزاروں لاکھوں بلکہ لاتعداد رحمتیں ہوں اے مسیح موعود تجھ پر کہ تیری تعلیم کا میں نے یہ اثر دیکھا کہ تیرے ایک مرید مولوی نورالدینؓ کی دعا سے بھی مردے زندہ ہوجاتے ہیں۔خاکسار اکبر شاہ خان اکبر نجیب آبادی ۲۰؍جولائی ۱۹۰۷ء (البدر جلد۶ نمبر۳۰ مورخہ ۲۵ ؍ جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ۱۱) نوٹ بک کا ایک ورق وقتاً فوقتاً سعی کی جائے گی کہ حضرت حکیم الامت کی اپنی بیاض میں سے کچھ باتیں نذر ناظرین کی جاویں اس سے پہلے ایک عرصہ تک حضرت حکیم الامت کے ارشادات کا کالم الحکم میں کھلا رہاہے اور اب انشاء اللہ العزیز مندرجہ بالا عنوان کے ماتحت آپ کے ارشادات درج ہوا کریںگے۔(ایڈیٹرالحکم) معراج نبوی علیٰ صاحبہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق جہاں تک میرا علم تجربہ اور ایمان یقین دلاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت روح اور جسم دونوں کا اس میں دخل تھا کیونکہ صرف روح بدوں جسم کے کوئی علم حاصل نہیں کرسکتا۔اور جسم بدوں روح کے کوئی عمل نہیں کرسکتا۔اہل اللہ قیامت ہوتے ہیں بعض اہل اللہ بھی قیامت ہوتے ہیں جن سے فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر اور اظہار ما فی الضمیرہوجاتا ہے۔حضرت مرزا صاحب کی بیعت سے میں نے کیا حاصل کیا ایک شخص نے حضرت حکیم الامت سے سوال کیا کہ آپ نے حضرت مرزا صاحب کی بیعت کر کے کیا فائدہ حاصل کیا؟ جواب میں فرمایا۔دنیا سے سرد۱ مہری، رضا بالقضا۲ء کا ابتداء ، اخلاص۳ ،فہم قرآن۴ میں بین ترقی، طول۵ امل سے تنفر اور المنکر سے۶ بحمد اللہ حفاظت، فتن دجال۷ سے بحمد اللہ حفاظت تامہ، کبر۸، کسل۹، کذب۱۰، عجز۱۱، کفر۱۲، جبن سے۱۳ امن تامہ۔