ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 337 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 337

آپ اس آیت پر غور فرماویں۔ (البقرۃ:۹۲) دلائل کی مساوات پر مدلول کی مساوات کیوں نہیں مانی جاتی۔کیا آپ کے نزدیک مسلم رسل جو صاحب شریعت نہیں ان کا انکار بھی کفر نہیں میرے خیال میں مَیں اور اکثر عقلمند مرزائی یہ نہیں مانتے کہ تمام مساوی ہیں۔کفر دون کفر کے قائل ہیں۔دوسرے سوال کا جواب عرض ہے۔نازل ہونے والے عیسیٰ بن مریم کوحضرت نبی کریم ﷺ نے نبی اللہ فرمایا ہے۔نیز ان الہامات و وحیوں نے جو مرزا صاحب کو منجانب اللہ ہوئیں اگر آپ احادیث کو مانتے ہیں تو آپ لَااِیْمَانَ لِمَن لَّا اَمَانَۃَ لَہٗ وَلَادِیْنَ لِمَنْ لَا عَہْدَلَہٗ(مسند احمد بن حنبل مسند حسن بن مالک حدیث نمبر ۱۲۳۸۳) لَا صَلٰوۃَ اِلَّا بِفَا۔تِحَۃِ الْکِتَابِ(سنن الترمذی ابواب الصلوۃ باب ماجاء انہ لا صلوۃ۔۔۔۔۔) لَا نِکَاحَ اِلَّا بِوَلِیٍّ(صحیح البخاری کتاب النکاح باب ماقال لانکاح الا بولی) لاحَسَدَ اِلَّا فِی ا ثْـنَیْنِ (مسند احمد بن حنبل مسند المکثرین من الصحابہ مسند عبد اللہ بن مسعودؓ حدیث نمبر۳۶۵۱ ) میں غور فرماؤ۔کیا یہ نفی آپ کے نزدیک عموم رکھتی ہے۔پھر غور کرو اور قرآن کریم میں تو خاتم النبیین بفتح تاء ہے۔خاتم بکسرہ تاء نہیں۔بھلا میاں صاحب! یَقْتُلُوْنَ النَّبِیِّیْنَ میں آپ عموم کے قائل ہیں یا تخصیص کے۔کسی شخص کو نبی کہنا خدا کے اختیار میں ہے انسان کے اختیار میں نہیں۔ابو بکر کو نبی نہیں کہا گیا اور مسیح موعود کو کہا گیا۔اس عرض پر بس کرتا ہوں۔یار باقی صحبت باقی۔نورالدین۔۵؍جولائی۱۹۰۷ء نمبر ۳ سوال۔دجال کی کیا حقیقت ہے؟ جواب۔دجال کے متعلق احادیث میں خطرناک مشکلات تھے اور آج تک ان مشکلات کو کوئی حل نہیں کر سکتا۔او ل تو اس لیے کہ محدثین اور فقہا نے احادیث متعلقہ اعمال پر بہت توجہ