ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 336 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 336

میاں صاحب۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔آپ کے سوالات پر خاکسار کو تعجب آتا رہا۔مجھے معلوم نہیں کہ آپ مقلد ہیں یا غیر مقلد ہیں۔پھر آپ کی استعداد کس قدر ہے جوابات کے لیے مخاطب کی حالت اگر معلوم ہو تو مجیب کو بہت آرام ملتا ہے۔بہرحال گزارش ہے آپ کفر دون کفر کے قائل معلوم ہوتے ہیںکیونکہ آپ نے کفر کے مساوات کا تذکرہ خط میں بہت فرمایا ہے۔میاں صاحب! رسولوں میں تفاضل تو ضرور ہے اللہتعالیٰ فرماتا ہے۔(البقرۃ: ۲۵۴) ابتدا پارہ تیسرا۔جب رسل میں مساوات نہ رہی تو ان کے انکار کی مساوات بھی آپ کے طرز پر نہ ہوگی۔تو آپ ایسا خیال فرمالیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے مسیح کا منکر جس فتویٰ کا مستحق ہے اس سے بڑھ کر خاتم الانبیاء کے مسیح کا منکر ہے صَلٰوۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ۔میاں صاحب! اللہ تعالیٰ مومنوں کی طرف سے ارشاد فرماتا ہے کہ ان کا قول ہوتا ہے (البقرۃ: ۲۸۶) اور آپ نے بلا وجہ یہ تفرقہ نکالا کہ صاحب شریعت کا منکر کافر ہو سکتا ہے اور غیر صاحب شرع کا کافر نہیں۔مجھے اس تفرقہ کی وجہ معلوم نہیں ہوئی۔نیز عرض ہے کہ خلفاء کے منکر پر بھی کفر کا فتویٰ قرآن مجید میں موجود ہے۔آیت خلافت جو سورہ نور میں ہے اس میںارشادالٰہی ہے۔(النور: ۵۶) اور فاسق کو اللہ تعالیٰ نے مومن کے بالمقابل رکھا ہے۔ارشاد ہے (السجدۃ: ۱۹) بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں میں تفرقہ کنندہ کو قرآن کریم میں کافر فرمایا ہے۔پارہ چھ میں ہے۔ (النساء:۱۵۱) پھر فرمایا ہے(النساء:۱۵۲) یہاں تفرقہ بین اللہ و بین الرسل سچ مچ کفر کا باعث قرار دیا ہے جن دلائل و وجوہ سے ہم لوگ قرآن کریم کو مانتے ہیں انہیں دلائل و وجوہ سے ہمیں مسیح کو ماننا پڑا ہے اگر دلائل کا انکار کریں تو اسلام ہی جاتا ہے۔