ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 338
مبذول فرمائی۔آمین بالجہر اور رفع یدین وغیرہ احادیث کی تحقیق کے لیے دیکھ لو کس قدر رسالے اور کتابیں موجود۔مگر پیش گوئیوں کی احادیث کی تحقیق ایسی نہیں کی گئی ان دجال کے متعلق احادیث پر غور کرو اور صرف مشکوٰۃ کو دیکھو کیسا مشکل امر ان احادیث کا ہے۔میں بطور نمونہ عرض کرتا ہوں ذرا آپ سوچو بلا تاویل صرف ظاہر اور صاف لفظوں میں کیا تطبیق ہو سکتی ہے۔اوّل۔دجال نبی کریم کے زمانہ مبارک میں تھا اور وہ ابن صیاد تھا۔حضرت عمر نے قسم کھائی کہ یہی دجال ہے۔پھر ایک حدیث کہ تمیم داری نے اس کو کسی جزیرہ میں دیکھا کہ وہاں قید ہے۔جب یہ دودجال ہوئے تو اب تیسری حدیث میں ہے کہ سو برس تک جو لوگ اس وقت زمین پر موجود ہیں مر جائیں گے۔تو اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دونوں سو برس تک مرگئے۔دوم۔ایک حدیث میں ہے کہ دجال چالیس روز دنیا میں رہے گا اور ایک حدیث میں ہے۔کہ چالیس برس دنیا میں رہے گا۔سوم۔ایک حدیث میں ہے کہ ایک دن سال کے اور ایک دن مہینہ کے اور ایک دن ہفتہ کے برابر اور ۳۷ روز معمولی ہوں گے۔اور دوسری حدیث میں ہے کہ وہ ایام ایسے ہوں گے کہ ایک سوکھی لکڑی کو آگ لگی اور جھٹ پٹ جل گئی۔چوتھے۔دجال جوان ہوگا۔دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت نبی کریم کے زمانہ سے موجود ہے گویا اب تیرہ سو برس کا بڈھا ہے۔پانچویں۔ایک حدیث میں ہے کہ اس کے ساتھ جنت اور نار ہوں گے۔اور دوسری حدیث میں ہے کہ روٹی اور پانی سے بھی ذلیل ہو گا۔چھٹے۔ایک حدیث میں ہے کہ وہ مکہ مدینہ سے روکا جائے گا۔دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت نبی کریم کو دجال نے مکہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا۔ساتویں۔پھر ایک حدیث میں ہے کہ دجال کی دائیں آنکھ عیب دار ہو گی۔اور ایک حدیث