ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 325 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 325

سر زمین پر جھکا دینا اور پچھلے خواہ کتنے ہی بڑے شریف ہوں اور اگلے خواہ کتنے ہی وقیع ہوں ان کے پاؤں کے ساتھ ان کے سروں کو لگا دینا۔تمام ملک کی خبر رکھنا اور فوجوںکی روانگی کے لیے ایسا سخت انتظام رکھنا کہ کسی کے مال کو راستہ میں چور نہ لوٹیں اور فتح کے وقت ایک سوئی یا ایک سوئی کا دھاگا کسی سپاہی کو کسی سے لینے کی اجازت نہ دینا۔پھر قرآن شریف کو ایسا یاد رکھنا کہ ایک نقطہ اور زیر و زبر کی غلطی نہ ہو نے دینا بعض دنوں آپ نے صبح کی نماز سے لے کر عشاء کی نماز تک لیکچر خطبہ پڑھا ہے۔نہ زبان کو وقفہ نہ بیان میں اختلاف ہوا اور پھر تئیس برس کے سارے بیانات میں یہ کہنا کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں اور پھر تئیس برس اس عہدہ کی خدمت کرنا کیا کوئی ایسا گورنر جنرل آپ نے دیکھا ہے جو تئیس برس کی ملازمت میں یہ لفظ بول سکے۔پھر کھانا۔پینا۔مکان میں رہنا۔بیوی سے تعلق رکھنا۔سفر کرنا۔صلح کرنا۔جنگ کرنا۔معاملات بیع و شرا۔تجارت۔نکاح۔طلاق۔عتاق۔قضاء۔شہود۔شہادات۔معاہدات۔مرنے کے بعد کے قوانین۔یتامیٰ اور کم عقلوں کی خبر گیریاں اور ان کے اموال وغیرہ کی حفاظتیں اس کے سوا قرب الٰہی کے ہزاروں ہزار شغل و اذکار اور قسم قسم کے مراقبات اور قسم قسم کی خلوتیں اٹھتے بیٹھتے سوتے۔چلتے پھرتے۔جماع۔ولادت۔موت اور قسم قسم کی آیات اللہ جیسے خسوف کسوف اور ان کے متعلق الٰہی یادگاریں اور دعائیں اور قوانین تجویز کرنا پھر ایسے آرام سے بیٹھنا کہ بیویوں کو کہنا کہ آؤ میں تمہیں جاہلیت کے زمانہ کی کہانیاں سناؤں۔اگر آپ کو شرح صدر کے متعلق کوئی دقت ہے تو اس آیت پر توجہ کرو جس میں لکھا ہے (الانعام: ۱۲۶) وہی صدر کا لفظ اس میں موجود ہے۔اس شرح صدر کے لیے ضرور ہے کہ صاحب شرح صدر کو ایک نظارہ دکھایا جاوے جس میں اس کا سینہ چیر کر اس میں حکمت و نور و ایمان بھر دیا جاوے۔طوائف الملوکی کے زمانہ میں کس طرح آنحضرت ﷺ نے گزارہ کیا۔نصرانیوں کی سلطنت حبش اور یہودیوں کے