ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 323
اس کی کبھی فکر پڑی۔۱؎ (۴) قبل از نبوت وضو یا نہ وضو کرنے کے متعلق کوئی صحیح اور واقعی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہمیں اس کی ضرورت پڑی تھی۔(۵) شفاعت کا دنیا، قبر اور قیامت میں ہونا برحق ہے۔شفاعت کا ثبوت قرآن کریم میں سے یہ آیت ملاحظہ کرو۔(النّساء: ۶۵) (۶) جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے کان میںاذان دینے کی وجہ یہ ہے کہ جو آواز بچہ کے کان میں پہلے پڑتی ہے اس کا اثر دماغ میں مستقل ہوجاتا ہے چنانچہ موجودہ زمانہ کی سائینس اور طب کی رو سے مرض یقظہ نومی سے ایسا ہی ثابت ہورہا ہے۔۲؎ جرمنی زبان کے لیکچرز(خطبات )بعض ایسے آدمیوں نے پورے پڑھ کر ادا کئے ہیں جن کو اس زبان کی کوئی واقفیت نہ تھی جب وہ اپنی ماں کی گود میں تھے تو انہوںنے اپنی ماں کی زبان سے سنے اور ویسا ہی جوانی کے زمانہ میں ادا کر دیے۔بچہ کے کان میں اذان دینے کے متعلق احادیث نبوی میں ارشاد موجود ہے۔۱؎ حاشیہ۔یہ امر تو بتواتر ثابت ہو چکا ہے کہ نبی علیہ السلام کی فطرت ابتدا سے ہی شر سے مجتنب و مستر خصال حسنہ و اخلاق فاضلہ پر واقع ہوئی تھی اور کبھی آپ پر کوئی کسی قسم کی تہمت کا الزام نہ لگا تھا چنانچہ خدا تعالیٰ نے آپ کے وجود مصدر فیوض کی ابتدائی زندگی کی طہارت و پاکیزہ روش کے متعلق اہل عرب کے آگے یہ آیت پیش کی (یونس: ۱۷) یعنی اے نبی ان کو کہہ دے کہ سنیے تمہارے درمیان چالیس برس اس دعویٰ نبوت سے پہلے زندگی بسر کی ہے مجھ پر کوئی الزام و تہمت نہیں لگی اب خدا پر کیوں جھوٹ بولوں گا۔۲؎ حاشیہ۔پس اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ بچہ کے کان میں اذان دینا بانی اسلام نے اس لیے ٹھہرایا ہے کہ بچہ کے کان میں جو پہلی آواز جاوے اور اس کی فطرت میں قائم ہو وہ توحید الٰہی و رسالت نبوی کی آواز ہو۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی اٰلِ وَ اَصْحَابِہِ الْعُرَفِ الصَّلَوَات۔