ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 302
استفسار اور ان کے جواب بسم اللہ الرحمن الرحیم بخدمت شریف حکیم الامت مولانا مولوی نور الدین صاحب۔ایک دو مسائل خدمت شریف میں تحریر کئے جاتے ہیں۔ان کا جواب الحکم میں شائع کرکے سرفراز فرماویں تاکہ عام لوگوںمیں بھی مفید ہوں۔(۱) استعمال دانہ کھانڈ کی بابت کیا حکم ہے۔مشہور ہے کہ اس کی سازش ناجائز اشیاء سے ہوتی ہے۔(۲) زمین کا رہن لے کر اس کی آمدنی سے فائدہ اٹھانا اس پر مفصل بحث ہونی چاہئے اور اقوال ائمہ سابقہ بھی اس کی بابت درج ہونے چاہئیں۔(۳) بیاہ شادیوں میں جو زیور وغیرہ سسرال اور والدین لڑکیوں کو دیتے ہیں وہ ملکیت کس کی ہوتا ہے۔رواج تو یہ ہے کہ لڑکی کے پرچانے سے سب کا سب اس کے سسرال رکھ لیتے ہیں۔اس پر بھی مفصل بحث ہو۔فقط میں امید کرتا ہوں کہ ہفتہ آئندہ الحکم میں ان کا جواب آپ شائع کردیںگے۔راقم اسمٰعیل پٹواری کلاس والا تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ الجواب اللہ نے حرام چیزوں کی تفصیل کردی ہے اور احادیث میں اور بھی واضح کیا گیا ہے۔(ا) دانہ کھانڈ کی حرمت شرع اسلام میں بالکل ثابت نہیں۔یہ ہنود کی سودیشی تحریک کی بات معلوم ہوتی ہے۔جو ان کے اپنے اغراض کے متعلق ہے۔ہم اہل اسلام کو ایسے خیالی وساوس میں پڑنا مناسب نہیں۔عیسائیوں کے پانی اور کھانے کو خدا تعالیٰ نے حرام نہیں کہا اور کھانا جائز رکھا ہے۔ہاں شراب سؤر اور مردارجو موجودہ عیسائی استعمال کرتے ہیں قرآن کریم نے اس کو جائز نہیں رکھا اور قرآن میں صاف ہے (الانعام :۱۲۰)