ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 282
(الفرقان : ۳۱) کی تیز و تند بجلی کے نیچے آجاتے ہیں اور دوسرے دعوے کو پس پشت ڈال کر از خود ایک نئی شریعت ایجاد کر دیتے ہیں اور پھر اسی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ساتھ ہی یہ وعید بھی سنا دیتے ہیں کہ جو اس کو نہ مانے وہ بے دین اور ملحد و زندیق اور خارج از دائرہِ اسلام ہے۔میں بڑے افسوس سے لکھتا ہوں کہ آپ نے بھی اس خط میں ایسا ہی کیا بلکہ یہاں تک حد سے بڑھے کہ اگر کوئی بات قرآن مجید میں موجود بھی تھی تو نقل میں اس کا عنوان بدل دیا ہے۔اب میں اس کے مطابق آپ کے قائم کردہ صفات پر نمبر وار بحث کرتا ہوں اور آپ کے فتویٰ اور وعید کی کچھ پرواہ نہیں کرتا اور پھراخیرمیں بتاؤں گا کہ کتاب اللہ نے خلفاء کے لئے کیا صفات بیان فرمائے ہیں۔آپ نے یہ صفات نائب حق اور نائب نبی اور نائب رسول کے لئے قائم کئے ہیں لیکن جہاں تک میں نے قرآن مجید کو پڑھا ہے میں نے ان تینوں ناموں سے ایک بھی نہیں پڑھا۔پس جب یہ نام ہی نہیں تو ان کے صفات یا ان کی معرفت یا بعثت کا کیا ذکر ہوگا۔پس کیا عمدہ بات ہوتی اگر آپ ذرا فرقان حمید پر غور کر لیتے۔پھر صفت نمبر ایک میں آپ نے لکھا ہے کہ نیابت رسول اللہ اور امامت کی تصدیق کے لئے اعجاز و خوارق عادات کا ظاہر ہونا ضروری ہے۔آپ قرآن مجید کو اوّل سے آخر تک غور سے پڑھو نہ خوارق عادات اور نہ اعجازو معجزات پاؤ گے اور نہ یہ عبارت کہیں پاؤ گے کہ المعجزات و خوارق العادات ضروریۃ لرسالۃ المرسلین ولنیابۃ نوابھم ہاں قرآن مجید میں (یونس : ۵۴) آیا ہے۔لاکن اس کے معنی آپ کے معجزہ کے ہرگز نہیں ہیں۔صفت نمبر ۲ میں آپ نے لکھا ہے کہ صفت دوم نائب رسول اللہ کی یہ ہے کہ جس طرح انبیاء مرسلین معصوم ہیں ویسے ہی نائب رسول بھی معصوم ہونا چاہئے کیونکہ کام نائب منیب دونوں کا یکساں