ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 281
کہہ سکتے ہیں کہ یہ صفات نائب نبی کے نہیں ہیں اور جبکہ ایک شخص میں انبیاء کی صفات پائے جائیں اور پھر نائب نبی تک بھی اس کو نہ کہا جائے تو بڑے ظلم کی بات ہے ہم اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ جس شخص پر ہمارا گمان نبی ہونے کا ہے اس میں یہ اوصاف موجود نہ ہوں تو ہم کہنے لگیں کہ ان اوصاف کا نائب نبی کے لئے ہونالازمی نہیں۔پس اب غور سے ملاحظہ فرما کر خدا او رسول کو حاضر و ناظر جان کر ہر ایک صفات اور علامات میں مطابقت کی جاوے پھر جس میں یہ صفات ثابت ہو جاویں اور پھر بمقابلہ اس کے کوئی شخص ایسے لوگوں کو نائب رسول مانیں کہ جس میں یہ اوصاف نہیں تو صاف پایا جائے گا کہ وہ بجائے خدا وند تعالیٰ کے شیطان کی پرستش کرتا ہے اور صاف طور پر بے دین ہے۔منفعت کے لئے یہ ڈھچر بنا رکھا ہے۔ایک از فرقہ آزادِ نار جواب از حکیم الامت سنو! میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر جواب لکھتا ہوں اور آپ بھی رسم وعادت اور تقلید جامد کے سیاہ ترین پردوں سے باہر ہو کر انصاف اور خدا ترسی کی آنکھ اور کتاب اللہ الاکمل کے ضیائِ اَتم سے پڑھیں اوربغور پڑھیں اور خدا وند کریم سے مدد چاہیں۔میں نہایت افسوس سے لکھتا ہوں کہ ہمارے مدعیانِ اسلام کے بڑے مسلّم دو دعوے ہیں لیکن عمل درآمد ان کے ایسا برعکس ہے گویا ہاتھی کے کھانے کے دانت اور ہیں اور دکھانے کے اور۔اسی کے واسطے کہا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ کتاب اللہ القرآن کامل بلکہ اکمل کتاب ہے اور یہ ایک ہی کتاب ہے جو ڈنکے کی چوٹ سے پکار رہی ہے(الأَنعام : ۶۰) اور (المائدۃ : ۴) اور (البقرۃ : ۱۸۶) اور دوم یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور آپ کی شریعت کے بعد کوئی اور شریعت نہیں آئے گی لیکن جہاں کہیں بات چلے گی اس کتاب کو نَسْیًا مَنْسِیًّا کر کے