ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 283 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 283

ہے گنہگار کی ہدایت مؤثر نہیں ہوا کرتی۔یہاں پر بھی آپ نے ایسا ہی کیا قرآن مجید میں معصوم کا لفظ بے گناہ کے معنوں میں کہیں نہیں آیا البتہ  (المائدۃ : ۶۸) آیا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا گناہ کا یہاں پر ذکر تک نہیں۔لیکن اس غلطی کی جڑ یہ ہے کہ نامراد شیعہ علی علیہ السلام یا نامراد شیعہ حسین علیہ السلام نے جب دیکھا کہ اس آیت کریمہ کے رو سے جو عصمت آنحضرت کی ہوئی ہے اس کا ہمارے اماموں میں تو نام و نشان بھی نہیں اور یہ ایسی زد تھی جو کہ شیعہ مذہب کے سب بخیے ادھیڑ دیتی تھی تو انہوں نے اہل اسلام کو دھوکا دینے کے واسطے معصوم بمعنے بے گناہ کہنا شروع کر دیا۔نمبر۳ میں آپ نے لکھا ہے کہ کبھی سجدہ اصنام کو سر نہ جھکایا ہو۔یہاں پر میں اس واسطے کچھ زیادہ نہیں لکھتا کہ اول یہ نمبر۲ میں داخل ہیں اور دوم یہ کہ آپ کے اصل قائم کردہ کے خلاف ہے کیونکہ آپ نے لکھا ہے کہ وہ صفات عوام الناس میں بھی پائی جاتی ہے۔نمبر۴ آپ نے لکھا ہے باتفاق علماء و مجتہدین اہل سنت یہ امر ثابت ہے کہ رسالت جناب سرور کا ئنات صلی اللہ علیہ وسلم مخصوص بطبقہ انسان ہی نہیں ہے بلکہ آپ جمیع طبقات موجودات ومخلوقات پر مبعوث ہوئے ہیں جن میں ملائک، بنی جان، حیوانات ،نباتات،جمادات ، آسمان، ستارے عناصر وغیرہ سب شامل ہیں اور جس نائب کی یہ سب طبقات اطاعت نہ کریں وہ ہرگز نائب برحق نہیں ہے۔میں علماء اور مجتہدین پر بہتان لگانا بد ترین گناہ جانتا ہوں۔آپ اگر سچے ہیں تو حضرت امام مالک، حضرت امام ابو حنیفہ ، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام بخاری، امام قاضی یوسف کی تصریح ان کی کتابوں سے پیش کریں۔ورنہ اس گندی شیعانہ عادت سے توبہ کریں علاوہ بریں یہ کیسی نئی شریعت آپ نے بنائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو اپنی کامل کتاب میں اِنس کی طرف آنحضرت کو ارسال فرمایا ہے۔البتہ یہ بھی آیا ہے کہ بعض جنّوں نے قرآن کو سنا اور ایمان لائے اور بس۔ہاں اگر آپ اس تیس پارہ والے قرآن مجید سے کہ جس کا جامع اور حافظ خود