ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 280
صفتِ پنجم نائب نبی کی یہ ہے کہ علم لدنی جیسا کہ انبیاء و مرسلین کو حاصل ہوتا ہے ویسا ہی مرسل نائب کو حاصل ہونا چاہئے اور جن جن طریقوں سے پہلے انبیاء تابعین رسالت کو یہ علم حاصل ہوا انہیں طریقوں سے اس رسالت کے نائبان کو حاصل ہوا ہو۔صفتِ ششم یہ ہے کہ علم قرآن وسنت اور حل مسائل وقضایا میں بدرجہ اتم کمال رکھتا ہو۔کبھی کسی سوال کے جواب میں قاصر نہ ہو۔صفتِ ہفتم یہ کہ نائب رسول وہ شخص ہے جو خداوند کریم اور رسول خدا کے نزدیک جمیع امت سے برگزیدہ اور افضل ہو اور سب سے زیادہ محبوب خدا او رسول ہو اور سب سے زیادہ خدا رسول کو وہ دوست رکھتا ہو اور بنظرضمیمہ سلطنت وہ شخص اشجع النّاس اور اعدل الناس ہو اور قربت قریبہ بھی نبی سے اوروں کی نسبت زیادہ رکھتا ہو۔صفتِ ہشتم یہ ہے کہ کوئی حکم خدا اورسول کا نسبت امامت اور خلافت کے اس کے صادر ہوا ہو یابحین حیات نبی کوئی معاملہ استخلاف اس کا وقوع میں آیا ہو یا بعض اختیارات رسالت میں مشارکت ہو یا نبی نے اس کے بارہ میں مشعر اطاعت وغیرہ امت کو حکم دیا ہو۔صفتِ نہم یہ ہے کہ ازروئے حدیث صحیح اثنا عشر خلیفہ کلّھم قریش سے ہوں۔یہ حدیث فریقین کی مسلّم ہے۔اہل سنت جماعت کہ جس قدر خلفاء ہیں قریش سے ہیں ان اوصاف متذکرہ بالا میں پانچ علامات اوّل الذکر ایسے ہیں کہ جو انبیاء مرسلین کے لئے مخصوص اور بنظر تعہد کار تبلیغ رسالت یہ اوصاف نائب نبی سے بھی متعلق ہیں اور مابقٰی صفات خاص نائب نبی کے متعلق ہیں ان صفات سے وہی فرقہ اور گروہ انکار کرے گا جو اپنے خلفاء اور ائمہ میں ایسے صفات کا ہونا تعجب سمجھے ورنہ غور کا مقام ہے کہ جب ایسے صفات کے لوگوں کا وجود ثابت ہو جاوے تو صاف ظاہر ہے کہ نائب برحق رسول اللہ کے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ ان کو یہ اوصاف بے وجہ فضول نہیں عطا فرماتا۔ہاں اگر بعد رسول خدا ایسے صفات سے کوئی متصف نہ ہو سکے تو