ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 279 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 279

یہ صفت پائی جاوے وہ نائب برحق سمجھا جاوے اور جس میں یہ صفت نہ ہوگی اس کو مدعی باطل تصور کیا جاوے۔صفتِ دوم نائب رسول اللہ کی یہ ہے کہ جس طرح انبیاء مرسلین معصوم ہیں۔ویسے ہی نائب رسول بھی معصوم ہونا چاہئے کیونکہ کام نائب منیب دونوں کا یکساں ہے۔گنہگار کی ہدایت مؤثر نہیں ہوا کرتی اور یہ صفت ضرور محتاج بہ نص ہے کیونکہ معجزہ اور خرق عادت تو ہر شخص بچشم معائنہ کر سکتا ہے اور یہ صفت بغیر شہادت خدا و رسول کے ثابت نہیں ہو سکتی۔صفتِ سوم نائب نبی کی یہ ہے کہ جس طرح انبیاء مرسلین روز پیدائش سے شرک وکفر سے مبّرا ہیں ایسے ہی ان کا نائب بھی آلائش شرک کفر سے پاک ہونا چاہئے۔کبھی سجدہ اصنام کو سر نہ جھکایا ہووے بلکہ ان کے نائب کا بھی ایسا ہی حال ہونا چاہئے کیونکہ علماء شیعہ تو اس صفت کو ضرور صفات انبیاء میں داخل کرتے ہیں۔صفتِ چہارم نائب برحق کی یہ ہے کہ باتفاق علماء ، مجتہدین اہل سنت یہ امر ثابت ہے کہ رسالت جناب سرور کائنات صلعم کی مخصوص بطبقہ انسان ہی نہیں ہے بلکہ آپ جمیع طبقات موجودات و مخلوقات پر مبعوث ہوئے ہیں جن میں ملائک، بنی جان، حیوانات، نباتات، جمادات، آسمان، ستارے، عناصروغیرہ سب شامل ہیں۔پس جس طرح پر کہ ان جملہ طبقات موجودات نے جناب رسول خدا کی اطاعت وفرمانبرداری کی ہے ویسے ہی ان کے نائب کی کرنا ثابت ہووے اگر کسی مدعی خلافت کی صرف طبقہ انسان نے اطاعت کی ہو اور دیگر طبقات ملائکہ اور جنّ اور حیوانات وغیرہ نے مطلق تعلق اور سروکار نہ رکھا ہو تو ہم اس کو ہر گز نائب برحق نہ کہیں گے کیونکہ یہ امر ممکن نہیں کہ جس نے اطاعت رسول اللہ کی ہو اس نے ان کے نائب کی نہ کی ہو۔پس ہم کو تحقیق کرنا چاہئے کہ سوائے انسان کے اور طبقات نے کس کس دعویدار نیابت وامامت کی اطاعت کی ہے۔