ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 17 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 17

خیال فرماتے کہ ترتیب نزولی کو بدل کر دوسری تربیت پر قرآن کریم بڑی اور اول دلیل ہے کہ قرآن میں موجودہ حالت پر کوئی ترتیب خاص مدنظر ہے۔میں نے اس معاملہ پر بہت غور کیا ہے۔بے ریب یور پ والوں کا اعتراض کہ قرآن کریم بلند پروازی سے ایک مضمون کو چھیڑتا ہے پھر ختم نہیں کرتا اور دوسری بات کو شروع کر دیتا ہے۔قابل غور مضمون ہے۔اس خط میں نہیں دوسرے خط میں اس کا نمونہ ضرور دوں گا۔غرض مترجم کو ضرور ہے کہ نوٹوں سے ترتیب قرآنی کو مدنظر رکھ کر بتاتا جاوے۔تفسیر کبیر ، تفسیر عزیزی ، تفسیرحسنی مسمّٰی بہ حیات سرمدی اس امر کو نصب العین رکھتے ہیں گو پورے کامیاب نہیں ہوئے۔ساتواں امر جس کو ضرور ہے کہ مترجم مدنظر رکھے، حال کا فلسفہ ہے۔جس کی بناء گو اکثر مشاہدہ پر ہے مگر ہمارے ہندوستانی طالب علم اس میں تھیوری قیاس قیاسی اور خیالی اور امر محقق شدہ میں تمیز نہیں کر سکتے۔ایک طرف تو سید احمد خاں کی جماعت نے یورپ کے فلسفہ اور سائنس سے دب کر صلح کر لی ہے۔ڈریپر اور اس کے بھائیوں کا ایسا ڈر پڑا ہے کہ قرآن کریم کو ان کے خیالات کے پیچھے پیچھے لگا دیا ہے۔تمام مذاہب کی جان اور تمام خلق کے لئے اعلیٰ جُزامید قبولیت دعا سے ہی منکرہو گئے۔تا آیات نبوت اور مسئلہ الہام و وحی و ملائکہ و آخرت اور جنت و نار کے وجود سے گویا انکار کر لیا۔میٹیریالسٹ لوگوں کے حملات کو دیکھ کر وحدت وجودیوں کی طرح اسی مخلوق کو بعد حذف تشخصات خدا مان لیا۔جیسے ان کے خطبات سے ظاہر ہے۔بقیہ مشکلات سے یوں پیچھا چھوڑایا کہ جہاں فلسفہ کو موید نہ دیکھا وہاں کہہ دیا کہ یہ کلام اللہ تعالیٰ نے حسب خیال یہوداور نصاریٰ کے یا حسب خیال مشرکان عرب کے فرمائی ہے۔رہا بقیہ قرآن اس میں یہاں تک کامیاب ہو ئے کہ لکھ دیا۔اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم۔بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔یہی ژندوستا سے گویا لئے گئے۔سُبْحَانَ اللّٰہِ یہ ہے دین کی نصرت اور حمایت۔اب اُن کے مقابلہ میں مولوی صاحبان کا حال بھی قابل غور ہے۔زمین کی کرویت سے