ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 16 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 16

کے پاس پہنچایا۔مجھ سے انہوں نے طیش میں آکر کہا۔کیا آپ نسخ کے قائل نہیں۔میں نے کہا کہ نسخ کا دعویٰ غلط ہے۔اگر آپ کو کوئی آیت منسوخ معلوم ہوتی ہے تو مجھے فرمائیے اور بحث جانے دیجئے۔میری اس عرض پر وہ کہنے لگے کہ شوکانی نے کہا ہے جو نسخ کا منکر ہے و ہ جاہل ہے۔میں نے عرض کیا کہ میں شو کانی کو نہیں جانتا کہ وہ کون ہے اور مجھے اس کی اتباع سے کام نہیں۔آپ کوئی آیت پڑھیں۔آخر وہ کہنے لگے کہ تم سید احمد خاں کو جانتے ہو۔میں اس وقت سید احمد کو نہیں جانتا تھا۔پس میں نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کون ہے۔غرض یہ قصہ قابل غور ہے اور آپ میرے اس قصہ کو قصہ تصور نہ فرماویں۔یہ ایک نفس الامری حالات کا بیان ہے جس نے مجھے قرآن کریم کی شاہراہ پر چلنے کے لئے بڑی راہ کھول دی ہے۔اگر جناب کو کسی آیت میں تامل ہے تو مجھے ارقام فرماویں۔مگر میں ٹھنڈے دل کا آدمی ہوں اور آپ کی طبع میں مجھے ایسی حدت معلوم ہوتی ہے جو محتاط مومن کی شان سے ذرا فاصلہ رکھتی ہے جیسے آپ کے کارڈ سے میں ثابت کروں گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔چھٹا امر جس پر مترجم کو غور ضروری ہے و ہ مسئلہ ہے ترتیب آیات قرآنیہ کا۔میرے نزدیک ثابت ہو چکا ہے کہ قرآن کریم الحمد شریف سے لے کر سورۂ ناس تک ایک ایسی ترتیب رکھتا ہے کہ اگر ایک آیت کہیں سے نکال ڈالیں تو قرآن قرآن نہیں رہتا۔ایک شخص صدیق حسن خاں نام نواب بھوپال میں گزرا ہے۔انہوں نے اپنی تفاسیر میںجیسے جامع البیان کے ابتداء میں حاشیہ پر لکھا ہے۔بڑی طول اور فضول تقریر سے ثابت کیا ہے کہ کوئی آیت مکہ میں اُتری کوئی مدینہ میں کوئی سفر میں کوئی حضرمیں کوئی صلح میں کوئی جنگ میں پھر کیسا احمق ہے وہ جو قرآنی آیات کو مرتب مانتا ہے۔یہ ہے خلاصہ اس کے کلمات کا۔میں کہتا ہوں کہ اگر یہ ترتیب قرآنی مدنظر حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کی نہ ہوتی تو ضرور تھاکہ قائم رہتی وہ ترتیب جس پر نزول ہوا تھا۔جب ترتیب نزولی کو بدل دیا گیا ہے اور جب یہ معاملہ حضرت خاتم الانبیاء کے حضور خود حضور کے حکم معلی سے بلکہ جناب باری کے فرمان سے ہوا ہے تو کیوں نہیں نواب