ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 18 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 18

منکر ہیں۔اس امر کے بھی منکر ہیں کہ کوئی آدمی اسکندریہ سے سوار ہو کر امریکہ پہنچ کر جاپان کی طرف سے آ نکلے اور کلکتہ سے بمبئی اور وہاں سے اسکندریہ پہنچے۔کیونکہ راستہ میں کوہ قاف جو زمرد کا پہاڑ ہے جس کی رگوں سے زلزلہ آتا ہے اور جس کے اردگرد سانپ لپٹا ہے اور جس کے اوپر آسمان رکھا ہے اس سے کیسے گزرا۔یہ مثالیں غالباً ایسی مخفی نہیں ہوں گی۔میرے دوست نے مجھ سے ذکر کیا کہ میں بچہ تھا اور میں نے بمقام لدھیانہ وعظ سنا کہ نیل دریاکی بڑی فضیلت ہے کیونکہ یہ چاند سے نکلتا ہے۔کسی نے وعظ میں عرض کیا کہ حضرت اگر نیل کا چاند سے نکلنا خلاف مشاہدہ نہیں تو گنگا کا مہان دیو کی جٹا سے نکلنا کیوں منع ہے۔اب واعظ صاحب کے پاس کیا تھا۔فتویٰ دے دیا کہ یہ شخص کافر ہے اس کو مار کر نکال دو۔وہ تو نکالا گیا اور یہ شخص جو اب ہمارے دوست ہیں وہاں مرتد ہو گئے کہ اسلام حقیقتاً جبر سے پھیلا یاگیا ہے اور اس میں ایسے ہی مسائل ہیں۔پھر کیا تھا آزاد ی کا زمانہ پکے کافر بن گئے اور مشن کی ملازمت کر لی۔آخر سالہا سال کے بعد جب بوڑھے ہو گئے۔ایک انگریز نے ان کو کہا کہ مسٹر فلا نے دیکھو یورپ والے کیسے محنتی ہیں نیل کا منبع انہوں نے دریافت کر لیا ہے۔جبال القمر ہے۔اب یہ صاحب اس انگریز سے جبال القمر کا نام سن کر بے تاب ہو گئے اور رو پڑے۔لوگ حیران کہ یہ کیا تماشا ہے۔اُس نے کہا آج اس جبل القمر نے مجھے مسلمان بنا دیا۔جیسے میں نے اس انگریز سے سنا جس طرح اس لفظ نے مجھے کافر بنایا جبکہ میں نے اس لفظ کو ایک واعظ سے سنا۔مولانا یہ ہے مشکل ترجمہ کرنے میں۔ایک طرف نیچری ہیںاور ایک ہمارے ملّا نے کرویت ارضی کے منکر ، حرکت ارضی کے منکر، علم کیمیا کے منکر ، جیالوجی کے منکر، ان کے درمیان ایک راہ ہے۔آٹھواں امر جس پر مترجم کو غور ضروری ہے ا صول ترجمہ کا قائم کرنا ہے۔ہمارے مفسر خواہ روایت والے ہوں جیسے ابن جریر، ابن کثیر، امام سیوطی صاحب در منثور، خواہ روایت والے جیسے امام رازی ، اما م غزالی قاضی بیضا ،خواہ صوف ہوں جیسے شیخ محی الدین بن عربی اور مصنف بحر الحقائق اور بخاری عبدالوہاب صوفی۔خواہ لغوی ہوں جیسے مجد الدین فیروز آبادی۔خواہ