ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 140
آنحضرتؐ کو نہ مان کر انسان مسلمان ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ سوال:۔محمد ﷺ کو نہ مان کر کیا انسان مسلمان ہو سکتا ہے یا نہیں۔جواب:۔آنحضرت ﷺ کے نہ ماننے میں وہ تمام انبیاء اور امتیں بھی داخل ہیں جو کہ آپ کی بعثت سے پیشتر گزر چکیں۔مثلاً آدم نے آنحضرت ﷺ کو کب ویسے مانا ہے جیسے کہ ہم مان رہے ہیں مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اگر آدم کو ماننے کی ضرورت پیش نہ آئی تو ہم بھی نہ مانیں غلط ہے۔دیکھو آدم نے تو آپ کو نہ مانا مگر وہ مسلمان تھا اور ادھر ابو جہل نے نہ مانا تو وہ کافر ہوا کیا اب دونوں کا نہ ماننا ایک جیسا ہے اصل میں اسلام نام ہے فرمانبرداری کا کہ جبفرمان نازل ہو اسے اسی وقت مان لے۔سکھوں کے وقت جب گورنمنٹ انگلشیہ آئی تو اس وقت یہ قوانین نہ تھے جو کہ اب ہیں۔مگر اس وقت جس قسم کے قوانین تھے ان کو اس وقت کے ماننے والے فرمانبردار کہلاتے تھے اور ان کے منکر باغی۔پھر اس کے بعد جب قانون کی صورت بدلی تو پھر اس متبدل شدہ صورت کو ماننے والے فرمانبردار ہوئے او ر دوسرے باغی۔اسی طرح اب جو قانون ہے یہ اور ہی ہے اب اسی کو ماننے والے فرمانبردار کہلاتے ہیں۔غرضیکہ جب فرمان کے وقت نافرمانی کی جاوے تو پھر اسلام کا مفہوم نہیں رہتا۔قرآن بھی یہی کہتا ہے۔ …(النور : ۵۶) یہاں بھی ان خلفاء کے منکروں پر لفظ کفر کا ہی آیا ہے کیونکہ وہ تو حکم الٰہی ہے جس رنگ میں ہو جو اس سے نافرمانی کرے گا وہ نافرمان ہوگا میں اس چھت کے نیچے بیٹھا ہوں اگر مجھے اللہ تعالیٰ ابھی حکم دے کہ اٹھ جاؤ اور میں نہ اٹھوں تو میں نافرمان ہوں گا۔اگر یہ چھت گرے اور میں مرجاؤں تو اس نافرمانی کی سزا ہوئی آنحضرت ﷺ تو کیا میں تو کہتا ہوں کہ خدا کے کسی ایک حکم اور آپ کے جانشینوں کی کسی ایک نافرمانی سے انسان کافر ہوجاتا ہے۔