ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 139 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 139

کہ خاص قرآن کی بولی جاننے کے واسطے ایک اور کتاب کی ضرورت پڑی۔اب یہ اعتراض رہا کہ جس کو قرآن کے معانی بدوں کسی کتاب کے آتے ہیں اسے کسی دوسری کتاب کی ضرورت نہیں ہے۔ہم کہتے ہیں آنحضرت ﷺ کی ذات پاک ایسی تھی کہ ان کو قرآن کے فہم کے واسطے تو کسی کتاب کی ضرورت نہ تھی مگر تاہم قرآن کو کلام الٰہی اور جو کچھ قرآن کریم پیش کرتا ہے اس کی تصدیق کے واسطے پھر بھی اور کتاب کی تو ضرورت تھی اور خود قرآن بتلاتا ہے کہ اور کتاب کی ضرورت ہے۔ ( اٰل عمران : ۹۴) آنحضرت ﷺ کو اپنی صداقت ثابت کرنے کے واسطے قرآن میں فرماتا ہے کہ ایک اور کتاب میں دیکھو پھر لکھاہے (الاعراف : ۱۵۸)  آنحضرت ﷺ کو اپنی صداقت ثابت کرنے کے واسطے قرآن میں فرماتا ہے کہ اور کتاب میں دیکھو پھر لکھاہے گویا دو کتابوں کی ضرورت پڑی اس تقریر سے یہ بات ثابت ہوئی کہ آنحضرت ﷺ کو بھی پیشگوئیوں وغیرہ اور اپنے دعاوی اور نیز قرآن کی تصدیق کے واسطے دوسری کتابوں کی ضرورت پڑتی رہی اور ادھر ہم کو بھی پڑی کیونکہ ہماری زبان عربی نہیں ہے۔اس لئے خوب یاد رکھوکہ قرآن تو اپنی ذات میںایک کامل کتاب ہے مگر اس کے کمال کو جاننے کے لئے ہم اور کتابوں کے محتاج ہیں کبھی لغت کے کبھی دوسرے علوم کی کتب کے اگر کہو کہ اصول دین کو اس سے کیا تعلق ہے۔تو ہم کہتے ہیںقرآن شریف کی تصدیق کرنی بھی تو اصول دین ہے۔کامل ذات خود کسی کی محتاج نہیں ہوا کرتی مگر دوسرے اس کو کامل جاننے کے واسطے محتاج ہوتے ہیں دیکھو خدا اپنی ذات میں کامل ہے اور اس کو دلائل کی ضرورت نہیں مگر چونکہ ہم دلائل کے محتاج ہیں اس لئے مصنوعات وغیرہ کے دلائل ہم کو دینے پڑے۔