ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 138 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 138

قرآن کے ہوتے ہوئے کسی اور کتاب کی ضرورت ۲۳؍اپریل ۱۹۰۳ء کو ایک صاحبنے حضرت حکیم الامت حکیم نورالدین صاحب پر چند ایک سوال کئے تھے چونکہ وہ سوال اور ان کے جواب ہر ایک دیندار کے لئے زیادتی ایمان کا موجب ہیں اس لئے ہم ان کو درج کرتے ہیں۔سوال:۔اگر قرآن کے سوا اور کوئی کتاب نہ مانی جاوے تو کیا قیامت لازم آتی ہے اور اصولِ دین؟ کون سی ضرورت باقی ہے؟ جواب:۔اگر انسان میں ضد نہ ہو اور غور وفکر کرے تو قرآن کافی کتاب ہے۔قرآن نور ہے، ہدایت ہے، رحمت ہے، شفا ہے اور ہر ایک قسم کے اختلاف مٹانے کے واسطے آیا ہے۔ (العنکبوت : ۵۲) اور یہی راہ ایمان کی ہے مگر سوال کے یہ معنی کہ اب دین کے واسطے ہمیں کسی اور کتاب کی ضرورت نہیں ہے یہ ایک نفس کا دھوکہ ہے انسان کے منہ سے بعض وقت ایسا لفظ نکلتا ہے جو خود ہی اس کے لئے مشکلات کا موجب ہوتا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ میں عربی زبان میں ہوں تو اب عربی زبان کے سمجھنے کے واسطے دوسری کتاب کی ضرورت پڑی ورنہ کوئی بتلائے کہ بسم اللّٰہ۔الرحمٰن۔الرحیم۔اب ان سب کے معنے قرآن شریف میں کہاں لکھے ہیں۔آخر جواب یہ ہوگا کہ عربی سمجھنے کے واسطے اور کتاب کی ضرورت ہے تو پھر نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن کافی نہ رہا۔اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سائل نے غور اور فکر ہر گز نہیں کی اور جس دعویٰ کو خود ثابت نہیں کرسکتا اسے دوسرے کے آگے پیش کیا جاتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف تو اپنی ذات میں کافی ہے مگر یہ ہماری اپنی کمزوری ہے کہ سوائے عربی زبان دانی کے ہم دینی ضرورت کو انجام نہیں دے سکتے شاید اس پر یہ سوال ہو کہ اس جواب کا تعلق عجم سے ہے۔عرب لوگوں کو یہ ضرورت نہیں ہے تو یہ بھی غلط ہے خود مکہ اور مدینہ میں اب وہ بولی نہیں ہے جو کہ قرآن شریف کی زبان ہے انجام کار یہ بات ماننی پڑتی ہے