ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 9 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 9

پیسہ اخبار میں دیکھا اور یہ تعمیل ارشاد خاتم الانبیاء صلعم کا رڈ لکھ دئیے جو بحمد اللہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کو پہنچ گئے۔وہ حکم تھا۔اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ (صحیح البخاری ، کتاب الایمان ، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم الدین النصیحۃ) دین اسلام خیر خواہی کا نام ہے۔وَ الرَّاحِمُوْنَ یَرْحَمُھُمُ الرَّحْمٰنُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی وَ ارْحَمُوْا مَنْ فِی الْاَرْضِ یَرْحَمُکُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ ا ور میرا خیال تھا اور ہے کہ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِامْرِئٍ مَانَوٰی۔میں کوئی ترتیب اس مضمون کے متعلق نہیں رکھ سکتا کیونکہ یہ خط ہے رسالہ نہیں ہے جو کچھ لکھتے لکھتے مجھے خیال آتا جائے گا لکھوں گا۔اوّل۔تراجم موجودہ نے قرآن کریم کے پاک اور نہایت ہی بے عیب الفاظ کو اپنے اپنے ناپاک اور گندہ محاورات میں ظاہر کیا ہے۔مثلاً بطور نمونہ ازہزارے کے سنو۔(۱) خدعہ کا لفظ ہے۔سورہ بقرہ کے دوسرے رکوع میں موجود ہے۔…(البقرۃ : ۱۰) اور سورہ نساء رکوع ۲۱ میں (النساء :۱۴۳) اس کا ترجمہ مترجموں نے دھوکہ دیتے ہیں اللہ کو۔اور دھوکہ نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور اللہ تعالیٰ دھوکہ دیتا ہے ان کو یا بجائے دھوکہ فریب دیتا ہے، دغا دیتا ہے۔وغیرہ وغیرہ۔اللہ تعالیٰ ان ناپاک معنی کی تصدیق قرآن مجید میں نہیں فرماتا۔اس ترجمہ کے معائب یقینا یا غالباً آپ پر ظاہر ہوں گے۔اس لئے مجھے شاید ضرورت نہیں۔اب میں اس کے ایسے معنے عرض کرتا ہوں کہ جن کی تصدیق قرآن کریم میں ہے اور لغت عرب اس کی تصدیق کرتی ہے۔ یَتْرُکُوْنَ اللّٰہَ۔قاموس میں ہے۔خَادِعُہٗ۔یَتْرُکُہٗ۔ترجمہ اس کا، چھوڑتے ہیں ترک کرتے ہیں اللہ کو۔ اور وہ چھوڑنے والا ترک کرنے والا ہے ان کو۔قرآن کریم میں دوسرے موقعوں پر منافقوں کے حق میں فرمایا ہے۔(البقرۃ : ۱۸) (الاعراف : ۱۸۷) وغیرہ۔