انسان کامل — Page 25
۲۵ آتے اور پیچھے سے اگر بے تکلفی سے میرا کان یا سر پکڑ لیتے۔میں کہتا کہ اچھا حضور ابھی جاتا ہوں۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔واللهِ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ خَادِمًا - یعنی خدا کی قسم حضرت نے کبھی کسی ملازم کو نہیں مارا۔غلاموں سے سلوک غلاموں سے ایسی شفقت کہ زید بن حارثہ نام غلام آپ کو حضرت خدیجہ نے دیا۔آپ نے اس سے ایسا حسن سلوک کیا کہ اس کے باپ اور بھائی نکتہ میں آئے اور کہا کہ حضور یہ تمھارا اور اور یہ لڑکا فلاں جنگ میں غلام بن کر حضور کے پاس پہنچ گیا ہے۔اسے ہمیں دے دیں۔۔آپ نے بڑی خوشی سے اجازت دے دی۔مگر دیکھو آپ کے حسن سلوک کا اثر کہ زید نے کہا۔کہ مجھے اس شخص کی غلامی منظور ہے۔مگر آزاد ہو کر اپنے باپ اور بھائی کے ساتھ اپنے قبیلہ میں جانا منظور نہیں۔اس سے بڑھ کر غلاموں سے حسن سلوک کی کیا مثال اور نمونہ ہو سکتا ہے۔سبحان الله و بحمده سبحان اللہ العظیم۔آپ کی مظلومیت اب میں ایک آخری بات لکھ کر اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں۔کہ حضور تیرہ برس تک مکہ میں اور آٹھ برس تک مدینہ میں کفار عرب کے ظالموں کا تختہ مشق بنے رہے۔انہوں نے آپ کو وطن سے بیوٹن کیا۔آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو مارا پیٹا زخمی کیا۔قتل کے درپے ہوئے ، قید میں رکھا۔طائف کے لفنگوں نے پتھر مارتے ، گالیاں دیتے ، اوباشوں اور کتوں کو کو پیچھے بھگاتے ہوئے گیارہ میل تک حضور" کا تعاقب کیا۔آپ نماز پڑھ رہے ہیں کہ پیٹھ پر اونٹ کی اوجھڑی گندگی سمیت لاکر رکھ دی۔خانہ کعبہ ہی نماز پڑھنے کیلئے آتے ہیں کہ کھلے میں ٹپکا ڈال کر گلا گھونٹنے لگے۔جنگِ اُحد میں آپ کو زخمی کیا۔ہجرت کے موقعہ پر جو آپ کو زندہ یا مردہ لاوے۔اس کے لئے ستو اونٹ کا انعام مقرر کر کے آپ کو اشتہاری محبرم قرار دیا۔آپ کے ساتھیوں کو بے رحمی سے قتل کیا۔آپ پر ایمان لانے والے غلاموں اور لونڈیوں کو مار مار کر اندھا کر دیا۔ظالموں نے مسلمانوں کا ایک پاؤں ایک اونٹ سے اور