انسان کامل

by Other Authors

Page 24 of 30

انسان کامل — Page 24

۲۴ بطور قیدی آپ کامل نمونہ پھر آپ قید بھی ہوئے۔تین سال تک شعب ابی طالب میں قید رہے۔حضرت یوسف " بھی قید ہوئے۔مگر قرآن کہتا ہے کہ قید کرنے والوں کی طرف سے کھانا ملتا تھا۔مگر حضور کو ظالموں نے اس طرح قید کیا کہ خود کھانا دنیا تو کجا۔پہنچنے بھی نہ دیتے تھے۔لکھا ہے۔کہ رات کے وقت بنو ہاشم کے معصوم بچوں کے بھوک کے مارے رونے کی آوازیں سارا نکه سنتا تھا۔مگر سبحان اللہ ! صبر ہو تو ایسا۔قید رہے۔مگر حق کو نہ چھوڑا۔مصیبتیں برداشت کیں۔مگر سچائی سے منہ نہ موڑا۔اور تین سال تک قید رہے۔مگر دین حق کو پیش کرنے میں قدم پیچھے نہ ہٹایا۔یہاں تک کہ رات کو بچوں کے رونے کی آواز میں ملکہ والے درندے بھی برداشت نہ کر سکے۔اور انہوں نے اپنا بائیکاٹ توڑ دیا۔اور حضور اور آپ کے کنبہ کے لوگ آزاد ہو گئے زندگی کی تمام منزلوں میں کامل نمونہ پھر آپ نے بچین، جوانی ، ادھیڑ عمر اور بڑھاپا تمام عمریں پائیں اور سب کے مناسب فرائض آپ نے ادا کئے۔بچپن ہے مگر آوارگی نہیں - جواتی ہے مگر دیوانی نہیں۔ادھیڑ عمر ہے مگر کسل نہیں۔بڑھایا ہے مگر حق کے پہنچانے میں ضعف نہیں۔نماز تہجد میں کھڑے نہیں ہو سکتے تو بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔عرض عمر کے تمام دور نہایت عمدگی سے گزارے اور بیچوں ، جوانوں، ادھیڑ عمر والوں اور بوڑھوں کیلئے آپ کا نمونہ کامل نمونہ ہے۔آپ ہمسایہ بھی رہے۔مگر کیا مجال کہ کسی ہمسایہ کو آپ سے شکایت ہو۔بیولوں کو کہتے کہ ترکاری اور سالن میں پانی ذرا زیادہ ڈالا کرو۔تاکہ ہمسائیوں کو حصہ بھیجا جا سکے۔دعوتوں میں ہمسائیوں کو مقدم فرماتے۔انس کو فرماتے۔بھا۔پاس والوں کو بلالا - پھر آپ کے نوکر چاکر ، لونڈی اور غلام بھی تھے۔انس کہتا ہے ہیں دس برس کا تھا۔کہ آپ کی خدمت کے لئے مقرر ہوا ، آپ " کی وفات تک کہ دس برس کا عرصہ گذرتا ہے۔خدمت کرتا رہا۔کبھی آپ نے مجھے اُف تک نہیں کہا۔آپ مجھے کام کیلئے بھیجتے میں رستہ میں بچوں سے کھیلنے لگتا۔دیر کے بعد آپ خود