انسان کامل

by Other Authors

Page 26 of 30

انسان کامل — Page 26

۲۶ دوسرا دوسرے سے باندھ کر دونوں کو چلا کر جسم کے دو ٹکڑے کر دیئے۔عفیفہ عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار مار کر شہید کیاگیا۔مدینہ پر متواتر پڑھ کر آئے ، آپ کی جوان صاحبزادی کو اس قدر بپھر مارے کہ اسقاط ہو گیا اور اسی میں وہ فوت ہو گئی۔آپ کے عضو کا کامل نمونہ اس تمام ظلموں کے بعد جب مکہ فتح ہوتا ہے اور خدا کا نبی دس ہزار قدوسیوں کے جمگھٹے میں اِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُكَ إِلَى مَعَادٍ کے مطابق مکہ میں داخل ہوتا ہے۔اور دوسرے روز سب مکہ والوں کو صحن کعبہ میں جمع کیا جاتا ہے۔تو بتاؤ کہ نرم سے نرم دل کیا سزا تجویز کرے گا ؟ کیا مسلمانوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں ؟ کیا حضور کی بنک کا کوئی بدلہ نہیں ؟ کیا زینب کا اسقاط حمل بے انتقام جائے گا ؟ کیا سمت مرحومہ کی در ناک موت اور خبیب کا خوفناک قتل ضائع جائے گا۔کیا مدینہ پر چڑھائیاں اور بدر، احد اور خندق میں مسلمانوں کا قتل ہونا کوئی رنگ نہ لائیگا ؟ کیوں نہیں لائی گا اور ضرور لائیگا۔اور میری طبیعت تو ایک منٹ کیلئے بھی تسلیم نہیں کر سکتی۔کہ مکہ والوں کو معاف کیا جائیگا۔نہیں اور ہرگز نہیں۔میں تو منتظر ہوں کہ ابھی تیروتلوار کے چلنے مکانوں کے گرنے ، درختوں کے کالے جانے ، خندقیں کھود کھود کر مکہ کے ظالم درندوں کے زندہ جلائے جانے اور مکہ کی اینٹ سے اینٹ بجائے جانے کی پے در پلے آوازیں آئیں گی۔اور سلمانوں کا لشکر مکہ سے تب واپس جائے گا جب لوگ کہیں گے۔کہیں گے۔کہ مکہ بھی ایک نسبتی ہوتی تھی۔مگر اب نہیں۔لیکن میں حیران ہوں۔میری عقل کام نہیں کرتی میں سمجھتا ہوں کہ بیداری نہیں بلکہ خواب ہے۔کیونکہ چاروں طرف مکہ کے باشندوں کو خوشی سے اچھلتے کو دتے گھروں کی طرف بھاتے دیکھتا ہوں جو پوچھنے پر بتاتے ہیں کہ سب سے حیم خدا کے سب سے رحیم بندے نے ہم سب کو جمع کر کے صاف الفاظ میں اعلان فرما دیا کہ اِذْهَبُوا فَانتم اللقاء لا نريب عليكم اليوم - یعنی جاؤ میں نے تم سب کو معاف کیا اور میں تمہیں تمہارے کسی فعل پر سلامت بھی نہیں کرتا۔دنیا کے لوگو ! بتاؤ کہ اس کا کوئی نمونہ ہے ؟ حکومت کے نمائندو! نام لوکسی