انسان کامل

by Other Authors

Page 23 of 30

انسان کامل — Page 23

۲۳ تعلق نبھایا۔مدینہ میں آپ کے دوستوں کی عورتوں اور بچوں کا ایک گروہ ایک شادی سے واپس آ رہا تھا۔آپ بے اختیار ہو کر ان کے سامنے جا کھڑے ہوئے اور فرمایا۔اللهم انتُمْ فِي اَحَبُّ النَّاسِ الي " یعنی خدا کی قسم تم لوگ تو مجھے سب سے پیارے ہو۔دوستوں سے وفاداری ایسی کہ فتح مکہ کے بعد انصار کو خیال پیدا ہوا۔کہ شاید آپ ہمیں چھوڑ کر مکہ میں رہ پڑیں۔فرمایا۔اب تو مرنا جینا تمہیں میں ہے۔اپنی وفات کے اعلان کے وقت فرمایا۔میرے بعد جو خلیفہ ہو۔اسے میں وصیت کرتا ہوں کہ انصار کا خیال رکھتے۔کیوں کہ وہ میرے ولی دوست ہیں۔پھر آپ کے دشمن بھی تھے۔اور دشمن بھی ایسے کہ خون کے پیاسے سبحان اللہ ! آپ کے تعدل کے مداح ، آپ کی امامت کے قائل، آپ کی خوبیوں کے مقر۔دشمن تو ہیں۔مگر آپ میں کوئی عیب نہیں کے نکالتے۔صرف دعوی نبوت کی وجہ سے یہ سب ناراضگی ہے کسی دشمن کو یہ ڈر نہیں کہ آپ قابو پا کر کوئی نا جائز کا روائی کریں گے۔ہر قل جب ا سے جو ابوجہل کے مرنے کے بعد مکہ کے کفار کا سردار ہے پوچھتا ہے کہ محمد صلعم نے کبھی جھوٹ بولا ا کبھی معاہدہ شکنی کی تو اسے بھی مجبورا یہی کہنا پڑا کہ کبھی نہیں سبحان اللہ و سجدہ سبحان اللہ العظیم۔انکسار کا کامل نمونہ البوس کبھی پھر اور سنیئے ! آپ ایک زمانہ میں کس میپرس تھے۔پھر مشہور ہو گئے۔خدا بھی فرماتا ہے وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ اکیلے تھے۔لاکھوں آدمیوں کا مجمع آپ کے ساتھ ہو گیا۔صرف ابو کبر" کو لے کر مکہ سے نکلے تھے مگر آٹھ سال کے بعد دس ہزار فقد وسیوں کے جھرمٹ میں مکہ میں داخل ہوئے۔مگر ہر موقع پر اچھا نمونہ ہی اختیار فرمایا۔اکیلے تھے تو کسی نے دبے نہیں۔حق کا اظہار کیا۔لاکھوں ساتھی مل گئے تو کسی پر بے جا دباؤ نہ ڈالا - گمنام تھے تو ذلیل نہ تھے۔مشہور ہوئے تو متکبر نہ ہوئے۔غرض ان تمام باتوں میں حضور نے دنیا کیلئے کامل نمونہ پیش کیا۔سبحان الله و سجده سبحان الله العظيم