انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 81

۔انقلاب حقیقی ہدایات بھی ہوں کہ گھروں کو اس طرح صاف رکھو، آپس کے تعلقات میں فلاں امور محوظ رکھو اور اس میں سیاسی ہدایات بھی ہوں کہ بادشاہ یہ یہ کام کریں اور رعایا کا بادشاہ سے یہ سلوک ہو اور پھر اس میں روحانی ہدایات بھی ہوں کہ عبادت کس طرح کی جائے اور اللہ تعالیٰ کا قرب کس طرح حاصل کیا جائے۔گویا اب ایک ایسے نبی کی ضرورت تھی جو ایک ہی وقت میں نبی بھی ہو، بادشاہ بھی ہو اور جرنیل بھی ہو، خدا تعالیٰ نے موسی کو اس کام کے لئے پٹنا اور چونکہ انسانی عقل بہت ترقی کر چکی تھی ، ایک کامل نظام رائج ہو چکا تھا ، فلسفہ اپنے کمال کو پہنچ رہا تھا اس وقت ضرورت تھی ایک ایسے شخص کی جو آدم بھی ہو نوح بھی ہو اور ابراہیم بھی ہو۔پس موسیٰ ان تینوں شانوں کے ساتھ آئے اور ان کے ذریعہ سے وہ تفصیلی ہدایت نامہ دنیا کو دیا گیا جس کا تعلق سیاست، روحانیت اور تمدن متینوں سے تھا اور جس میں سیاسی ہدایات بھی تھیں اور روحانی بھی اور تمدنی بھی۔چنانچہ آپ کے ذریعہ سے جو انقلاب پیدا ہوا وہ مندرجہ ذیل امور پر مشتمل تھا۔موسوی دور کا پہلا انقلاب۔شریعت کامل ایک شریعت کامل جو عبادات ، روحانیت، سیاست اور تمدن کی تفصیلات پر مشتمل تھی جس کی مثال اس سے پہلے کسی نبی میں نہیں پائی جاتی تھی اس کے ذریعہ سے جسم وروح کے گہرے تعلق کو ظاہر کیا گیا تھا اور روحانیت کے اعلیٰ مدارج کے حصول کے لئے راستہ کھول دیا گیا تھا۔ابراہیم کے وقت میں صرف جسم کی خوبی اور برتری تسلیم کی گئی تھی مگر جسم اور روح کے گہرے تعلق کو صرف موسیٰ کے وقت میں ظاہر کیا گیا اور اس طرح مدارج روحانیت کے حصول کا دروازہ بنی نوع انسان کے لئے کھول دیا گیا۔چنانچہ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے ثُمَّ اتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِي أَحْسَنَ وَتَفْصِيلًا 81