انقلابِ حقیقی — Page 80
انقلاب حقیقی بار یک فلسفہ کو برداشت کرنے کے قابل نہ تھا لیکن ابراہیم کے وقت میں وہ اس قابل ہو چکا تھا کہ اس پر یہ راز کھولا جائے چنانچہ ابراہیم نے انسان کے محبوب الہی ہونے کے فلسفہ کو پیش کیا اور چونکہ محبت محبوب کی جان کا ضیاع پسند نہیں کرتا اس لئے اس کی قربانی رڈ کی گئی گویا یہ تصوف کا پہلا دور تھا۔اسی طرح ابراہیم کا دور فلسفہ حیات انسانی کے سمجھنے کا دور تھا کیونکہ اُس وقت یہ نظر یہ انسان کے سامنے رکھا گیا کہ یہ زندگی عبث اور فضول نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک عظیم الشان نعمت ہے اور آئندہ ترقیات کے لئے ذخیرہ جمع کرنے کا ذریعہ ہے۔موسوی دور اور اُس کا پیغام اس کے بعد دورِ موسوی شروع ہوا کہ یہ دور ایک نئی تبدیلی اور نیا انقلاب لے کر آیا یعنی اب دین اور دنیا کو ملا دیا گیا اور کفر اور اسلام میں امتیاز پیدا کر دیا گیا۔آدم کے زمانہ میں صرف تمدن تک بات تھی ، نوح کے زمانہ میں شرک اور توحید میں ابتدائی امتیاز قائم ہوا اور ایک محدود شریعت کی بنیاد پڑی، ابراہیم کے زمانہ میں توحید کامل کی گئی مگر موسوی زمانہ میں انسانی ذہن میں اس حد تک ترقی ہو چکی تھی کہ اب ضرورت تھی کہ دین و دنیا کے قواعد پر مشتمل ایک ہدایت نامہ نازل ہو۔گویا ایک ہی وقت میں مذہب، دین اور دنیا دونوں کا چارج لے لے۔پھر اس زمانہ میں کفر و اسلام میں امتیاز پیدا کر دیا گیا تھا۔موسیٰ سے پہلے گفر واسلام میں امتیاز نہیں تھا۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کافروں کی بیٹی لے لیتے اور ان سے تعلقات رکھتے مگر موسوی دور میں دینِ حق نے علیحدہ اور ممتاز صورت اختیار کر لی تھی جیسے آدم اور نوح کے زمانہ میں انسان نے ممتاز درجہ اختیار کر لیا تھا۔اب تفصیلی ہدایت کی ضرورت تھی جن کا تعلق تمدن، سیاست اور روحانیت، متینوں سے ہو۔اس میں تمدنی 80