انقلابِ حقیقی — Page 126
۔انقلاب حقیقی فتوے لگائے اور یہ کہا کہ آپ مسیح کی ہتک کرتے ہیں۔مگر آج چلے جاؤ دنیا میں، تعلیم یافتہ لوگوں میں سے بہت سے ایسے نظر آئیں گے جو انہیں اب مُردہ ہی یقین کرتے ہیں اور اکثر ایسے نظر آئیں گے جو گومنہ سے اقرار نہ کریں مگر یہ ضرور کہیں گے کہ مسیح زندہ ہو یا مر گیا ہو، ہمیں اُس سے کیا تعلق ہے؟ یہ کونسی ایسی اہم بات ہے کہ ہم اس کے پیچھے پڑیں؟ یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ دشمن بھی تسلیم کرتا ہے کہ اب اس حربہ سے وہ ہمارے مقابلہ میں نہیں لڑسکتا۔پھر دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جو کفر کا فتویٰ لگا اس میں کفر کی ایک وجہ یہ بھی قرار دی گئی تھی کہ آپ قرآن مجید میں ناسخ و منسوخ کے قائل نہیں۔گزشتہ علماء سے بعض تو گیارہ سو آیتوں کو منسوخ قرار دیتے تھے ، بعض چھ سو آیتوں کو منسوخ سمجھتے تھے اور بعض اس سے کم آیتیں منسوخ بتلاتے تھے۔یہاں تک کہ تین آیتوں کے نسخ کے قائل تو وہ بھی تھے جو نسخ کے جواز کو خطرناک خیال کرتے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا یہ سب لغو اور بیہودہ باتیں ہیں، سارا قرآن ہی قابل عمل ہے۔اور پھر جن آیتوں پر اعتراض کیا جا تا تھا اور کہا جاتا تھا کہ یہ منسوخ ہیں، ان کے آپ نے ایسے عجیب وغریب معارف بیان فرمائے کہ یوں معلوم ہونے لگا کہ اصل آیتیں قرآن کی تو تھیں ہی یہی اور ایک ایسا مخفی خزانہ ان میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نکال کر باہر رکھ دیا کہ دنیا حیران ہو گئی کہ اب تک یہ امور ہماری نظروں سے کیوں پوشیدہ تھے لیکن اُس وقت جب آپ نے یہ باتیں کہیں آپ پر کفر کے فتوے لگائے گئے آپ کو بُرا بھلا کہا گیا اور آپ کے خلاف لوگوں کو اشتعال دلایا گیا۔حالانکہ یہ ایسا لطیف نکتہ تھا کہ اگر دنیا کی کسی عقلمند قوم کے سامنے اسے پیش کیا جاتا تو اس پر شادی مرگ کی کیفیت طاری ہو جاتی مگر آج جاؤ اور دیکھو کہ مسلمانوں کی کیا حالت ہے۔تمہیں نظر آئے گا کہ سو میں سے ننانوے مولوی کہہ رہا ہے کہ قرآن کی کوئی آیت منسوخ نہیں اور وہ انہی آیتوں کو جن کو پہلے منسوخ کہا کرتے تھے 126