انقلابِ حقیقی — Page 127
انقلاب حقیقی قابل عمل قرار دیتے اور ان کے وہی معنی کرتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کئے۔غلبہ احمدیت اور عمل کا میدان غرض عقائد کے بارہ میں تو ہم نے مخالفین کو ہر میدان میں شکست دی ہے لیکن جہاں عقائد کے میدان میں ہم نے مخالفوں پر عظیم الشان فتح حاصل کی ہے وہاں عمل کے میدان میں ہمیں یہ بات نظر نہیں آتی اور ہم کم سے کم دنیا کے سامنے یہ امر دعوی سے پیش نہیں کر سکتے کہ اس میدان میں بھی ہم نے اپنے مخالفوں کو شکست دے دی ہے اور بجائے کسی اور نظام کے اسلامی نظام قائم کر دیا ہے۔کامل تنظیم اور عملی تکمیل اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے عملی تکمیل بغیر ایسی کامل تنظیم کے نہیں ہو سکتی جس میں انکار کی کوئی گنجائش نہ ہو مگر اس وقت تک ہماری جماعت صرف عقائد کی درستی شخصی جد و جہد اور چندہ جمع کرنے کا کام کرسکی ہے حالانکہ شخصی جد و جہد کبھی نظام کامل کے قیام میں کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ:۔(1) اکثر لوگ شریعت کے غوامض سے واقف نہیں ہوتے اس لئے ان کی جد و جہد ناقص ہوتی ہے اور وہ شریعت کو دنیا میں قائم نہیں کر سکتے کیونکہ کئی مسئلے انہیں معلوم ہی نہیں ہوتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سو میں سے دس مسائل تو وہ قائم کرتے ہیں مگر نوے چھوڑ جاتے ہیں۔(۲) دوسرے جو لوگ واقف ہوتے ہیں ان میں سے ایک حصہ سست بھی ہوتا ہے اور ایک حد تک تحریک اور تحریص اور خارجی دباؤ کا محتاج ہوتا ہے اور قوم کو انہیں نوٹس دینا پڑتا 127