انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 125

انقلاب حقیقی شریعت ، اس کے تمدن اس کی تہذیب اس کے علوم اس کے اقتصاد اس کی سیاست اس کی معاشرت اور اس کے اخلاق کو قائم کیا جائے۔اس تبدیلی کا کچھ حصہ شخصی ہے جیسے نمازیں پڑھنا یا روزے رکھنا اور کچھ قومی شخصی حصہ تو وعظ اور شخصی کوشش کو چاہتا ہے یعنی لوگوں کو کہا جائے کہ وہ نمازیں پڑھیں وہ روزے رکھیں ، وہ حج کریں، وہ صدقہ و خیرات دیں اور پھر جو لوگ اس وعظ ونصیحت سے متأثر ہوں وہ اپنے اپنے طور پر نیکی کے کاموں میں مشغول ہو جائیں لیکن قومی حصہ ایک زبر دست نظام چاہتا ہے مثلاً اگر ہم خود نمازیں پڑھنے والے ہوں تو یہ ضروری نہیں کہ باقی بھی نمازیں پڑھنے والے ہوں۔اگر اور کوئی بھی شخص نماز نہیں پڑھتا تو ہماری اپنی نماز ہی ہمارے لئے کافی ہوگی۔لیکن بعض احکام ایسے ہیں جو ایک نظام چاہتے ہیں اور ہم انہیں اس وقت تک بجا نہیں لا سکتے جب تک دوسرے بھی وہی کام نہ کریں۔جیسے نماز ہے یہ اکیلے تو ہم پڑھ سکتے ہیں لیکن باجماعت نماز اس وقت تک نہیں پڑھ سکتے جب تک دوسرا شخص ہمارے ساتھ نہ ہو۔پس نماز باجماعت ایک نظام چاہتی ہے۔یعنی ضروری ہے کہ ایک امام ہو اور اس کے پیچھے ایک یا ایک سے زائد مقتدی ہوں۔بیسیوں اور احکام ایسے ہیں جو ایک زبر دست نظام چاہتے ہیں ایسا نظام کہ جس میں انکار کی کوئی گنجائش نہ ہو۔عقائد کے میدان میں جماعت احمدیہ کی فتح اس وقت ہماری جماعت جیسا کہ ظاہر و ثابت ہے عقائد کے میدان میں الشان فتح حاصل کر چکی ہے اور ہماری اس فتح کا دشمن کو بھی اقرار ہے۔چنانچہ دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب کہا کہ مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں تو تمام غیر احمدی یک زباں ہو کر پکار اٹھے کہ یہ کفر ہے یہ کفر ہے۔چنانچہ اسی بناء پر انہوں نے آپ پر کفر کے 125