انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 122

۔انقلاب حقیقی ہے هُوَ الَّذِى أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوُ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ۔یعنی ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لائے ہوئے کلام کو ساری دنیا میں پھیلا دے گا اور سب دوسرے ادیان پر غالب کر دے گا۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی یہی آیت الہاما نازل ہوئی ہے تا یہ بتایا جائے کہ وہ زمانہ جس میں اس کا ذکر تھا آ پہنچا ہے۔پرانے مفسرین بھی اسی امر پر متفق ہیں کہ یہ آیت آخری زمانہ کے متعلق ہے اور کہ یہ کام مسیح موعود کے زمانہ میں ہونے والا ہے۔غرض ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ بعثتِ اُولیٰ میں تو قیام دین کا کام مقدر تھا اور بعثت ثانیہ میں باقی مذاہب پر اسلام کو غالب کر دینے کا کام مقدر ہے یعنی (۱) دلائل و براہین سے ان کے متبعین کو اسلام میں داخل کرنا اور (۲) ان کی تہذیب و تمدن کو مٹا کر اسلامی تمدن اور تہذیب کو اس کی جگہ قائم کر دینا اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے مسیح موعود کو محض اسی مقصد کیلئے بھیجا ہے۔لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله تا کہ تمام دینوں پر وہ اسلام کو غالب کر دے۔غلبہ اسلام کے ذرائع اب دیکھنا چاہئے کہ تمام ادیان پر اسلام کا گلی غلبہ کس طرح ہوسکتا ہے؟ اگر خالی تعلیم لی جائے اور یہ خیال کیا جائے کہ ہر مذہب کے چند آدمیوں کو ہم اپنے اندر شامل کر لیں گے تو یہ ان کے ادیان پر غلبہ نہیں کہلا سکتا کیونکہ ادیان باطلہ بہر حال موجود ر ہیں گے اور وہ اسلام سے الگ ہونگے۔اسلام کا ان پر کوئی غلبہ نہیں ہوگا۔پس لاز مامانا پڑتا ہے کہ غلبہ کے یہ معنی نہیں بلکہ غلبہ کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح آج باوجود مذاہب کے اختلاف کے 122