انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 121

انقلاب حقیقی السلام کو موجودہ زمانہ میں جو تہذیب الہی کا ساتواں دور ہے بھیجا ہے اور آپ کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ آپ وہ دوسری قسم کا انقلاب پیدا کریں جسے آیت ما ننسخ من أيّةٍ اَوْ نُنسها تأتِ بِخَيْرٍ منها آخر مثلها، کے آخری حصہ میں بیان کیا گیا ہے۔یعنی کبھی انقلاب اس طرح بھی پیدا کیا جاتا ہے کہ کتاب وہی واجب العمل رہتی ہے جو پہلے سے موجود ہومگر خدا تعالیٰ دوبارہ اس کی مردہ تعلیم کو زندہ کرنے کے لئے ایک انسان اپنی طرف سے کھڑا کر دیتا ہے جولوگوں کو پھر اس تعلیم پر از سر کو قائم کرتا ہے اور جس کی طرف سورہ جمعہ میں بھی ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ :۔هُوَ الَّذِى بَعَثَ فِي الْأُمِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمُ ايَاتِهِ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ۔وَاخَرِيْنَ مِنْهُمُ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ یعنی وہ خدا ہی ہے جس نے اُمیوں میں اپنا رسول بھیجا جو ان پر آیات الہیہ کی تلاوت کرتا، ان کا تزکیہ نفس کرتا اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، اگر چہ وہ اس سے پہلے کھلی گھلی گمراہی میں مبتلاء تھے اور وہ خدا ہی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ دنیا میں بھیجے گا اور پھر آپ کے ذریعہ سے ایک ایسی جماعت پیدا کرے گا جو صحابہ کے رنگ میں کتاب جاننے والی پاکیزہ نفس اور علم و حکمت سے واقف ہوگی۔گویا وہی کام جو آنحضرت ﷺ نے کیا نئے سرے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کرنا ہے۔بثت ثانیہ کے کام سورۃ صف میں بھی اس ساتویں دور کا کام بتایا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا الجمعة ٤،٣ 121