انفاق فی سبیل اللہ — Page 25
انفاق في سبيل الله اس اسلامی تعلیم پر جس طرح دل و جان سے عمل کیا وہ تاریخ عالم میں بے مثل ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک غزوہ کے موقع پر نصف مال پیش کر دیا اور سوچا کہ میں اس میدان میں سب پر سبقت لے گیا ہوں۔تھوڑی دیر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور اپنا سارا مال پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈھیر کر دیا۔اور مسابقت کی یہ دلفریب ادائیں صحابہ کرام نے اپنے اور ہمارے محبوب آقا، معلم کل جہاں حضرت محمد مصطفے ﷺ سے سیکھیں۔آپ ہی نے ان کے دلوں کو روحانی پاکیزگی عطا فرمائی اور پھر ان دلوں میں راہ خدا میں اپنے اموال بے دریغ قربان کرنے کا بیج بویا۔جب یہ پیج پھل لاتا اور اور ایثار کا کوئی مظاہرہ آپ کی نظروں کے سامنے آتا تو آپ کا چہرہ مبارک خوشی سے تمتما اٹھتا۔ایک کسان کی طرح جو اپنی سرسبز اور لہلہاتی ہوئی کھیتی کو دیکھ کر خوشی سے جھوم اٹھتا ہے۔اس کی ایک مثال عرض کرتا ہوں۔حضرت جریر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک غریب قوم کے لوگ حاضر ہوئے جو ننگے پاؤں اور ننگے بدن تھے۔ان کی حالت دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ متغیر ہو گیا اور آپ نے صحابہ کو جمع کر کے خطاب کیا اور ان کے لئے صدقہ کی تحریک فرمائی۔صحابہ نے دینار، درہم، کپڑے، جو اور کھجور صدقہ کیا یہاں تک کہ کپڑوں اور غلے کے دو ڈھیر جمع ہو گئے۔حضرت جریرہ کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ یہ منظر دیکھ 25