انفاق فی سبیل اللہ — Page 26
انفاق في سبيل الله کرسونے کی ڈلی کی مانند چمک رہا تھا۔(صحيح مسلم كتاب الزكواة باب الحث على الصدقه ) جب قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی کہ لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَهُ (سورۃ آل عمران آیت 93) کہ تم ہر گز نیکی نہ پاسکو گے جب تک تم ان چیزوں میں سے خرچ نہ کرو گے، جن سے تم محبت کرتے ہو“ تو اس کے بعد وفا شعار صحابہ کا طرز عمل دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔یوں لگتا تھا کہ وہ اپنی ہر محبوب ترین چیز کو راہ خدا میں قربان کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔انصار مدینہ میں سب سے زیادہ باغات حضرت طلحہ کے پاس تھے۔بیرحاء نامی ایک باغ آپ کا محبوب ترین باغ تھا۔یہ مسجد نبوی کے سامنے تھے اور حضور ﷺ اکثر وہاں تشریف لے جایا کرتے تھے۔اس باغ کا ٹھنڈا اور میٹھا پانی آپ کو بہت مرغوب تھا۔یہ آیت اتری تو حضرت ابوطلحہ نے فی الفور یہ باغ اللہ کی رضا کی خاطر صدقہ کے طور پر پیش کر دیا! حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ جب یہ آیت اتری تو میں نے غور کیا کہ مجھے اپنے اموال میں سب سے زیادہ پسندیدہ مال کون سا ہے ؟ میں نے اپنی رومی لونڈی سے زیادہ 26