انفاق فی سبیل اللہ — Page 11
انفاق في سبيل الله پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت اور قربت پالیتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے متلاشی اور تقویٰ کی لامتناہی راہوں کے سالک کی ایک نشانی یہ بتائی ہے کہ اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اس طرح بسر ہوتا ہے کہ اس پر فنائیت کا مضمون صادق آتا ہے وہ اس حقیقت کا خوب عرفان رکھتا ہے کہ اس نے جو کچھ پایا محض اور محض خدا تعالیٰ کے فضل سے پایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس نکتۂ معرفت کو کیا خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ہے۔ے سب کچھ تیری عطا ہے، گھر سے تو کچھ نہ لائے اس محکم یقین پر پوری طرح قائم ہو جانے کے بعد ایک بندہ مومن کی ساری زندگی اس انداز میں گذرتی ہے کہ وہ اپنی ہر شے کو عطاء الہی یقین کرتے ہوئے پوری بشاشت اور خوش دلی کے ساتھ ، پورے انشراح اور یقین کے ساتھ ، راہ خدا میں خرچ کرتا ہے اور خرچ کرتا چلا جاتا ہے۔اپنی جان، مال، وقت ، عزت اور اپنی خدا داد قوت و استعداد کا ایک ایک ذرہ اس راہ میں قربان کرتا چلا جاتا ہے اور سب کچھ قربان کر دینے کے بعد ، اس کے دل کی گہرائیوں سے یہی آواز اٹھتی ہے کہ جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا سیدنا حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے اس مضمون کو نہایت عارفانہ رنگ میں یوں بیان فرمایا ہے: 11