انفاق فی سبیل اللہ — Page 12
انفاق في سبيل الله خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اس پہ نثار اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب که راضی دے وہ دلدار ہوتا ہے کب چکے مال و جاں بار بار ابھی خوف دل میں کہ ہیں نابکار دینی ضروریات کی خاطر راہِ خدا میں اپنے اموال کو خرچ کرنے کا مضمون قرآن مجید میں بہت کثرت کے ساتھ بیان ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے بار بار اس کی تاکید فرمائی ہے اور یہ وعدہ دیا کہ عالم الغیب خدا تمہاری ہر مالی قربانی کو خوب دیکھنے اور جاننے والا ہے اور وہ وہاب خدا ہے جو اس نیکی کی جزا گن گن کر نہیں بلکہ بے حساب دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے اپنی جزاء کو لامتناہی رنگ میں بڑھاتا چلا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے کو جہاد قرار دیتے ہوئے تجارت کے رنگ میں ذکر فرمایا ہے۔فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ O تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ، ذلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ O يَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلُكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ 12