انفاق فی سبیل اللہ — Page 10
انفاق في سبيل الله قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے اس سے کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے۔اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس راہ کو اختیار کرنے سے ہی انسان اپنی زندگی کے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔قرآن مجید کا مطالعہ شروع کرتے ہی یہ آیات کریمہ ہماری توجہ کھینچتی ہیں جوسورۃ البقرہ کی ابتداء میں آئی ہیں۔فرمایا: ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِين (سورة البقرة:3) کہ یہ قرآن کریم وہ عظیم موعود کتاب ہے جس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں اور یہ متقیوں کے لیے ذریعہ ہدایت ہے۔یہاں یہ سوال ذہنوں میں ابھرتے ہیں کہ آخر یہ متقی لوگ کون ہیں اور انسان متقی کیسے بن سکتا ہے۔ان دونوں سوالوں کا جواب یہ عطا فرمایا: الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُون (سورة البقرة:4) کہ متقی وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم انہیں رزق دیتے ہیں اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔اس میں متقی لوگوں کی جو در حقیقت انجام کا رفلاح پانے والے ہیں دو بنیادی علامتیں بیان کی گئی ہیں۔ان نشانیوں سے ان کو خوب پہچانا جاسکتا ہے اور یہی وہ دو ذرائع بھی ہیں جن سے تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے انسان بالآخر اپنے مقصدِ حیات کو 10