علم و عمل

by Other Authors

Page 11 of 20

علم و عمل — Page 11

19 18 بیٹھے بیٹھے گھسٹتے ہوئے مسجد نبوی میں حاضر خدمت ہوئے۔ایسا ہی واقعہ حضرت مسیح سے ہے۔دوسروں کی ضروریات اور حاجات کو مقدم کرنا اور دوسروں کی خاطر دکھ اُٹھا موعود کی زندگی میں بھی پیش آیا۔آپ کے رفیق کا طرز عمل بھی وہی تھا۔حضرت مولانا کر انہیں آرام مہیا کرنا انسان کی عالی ظرفی ، ہمدردی اور نیکی کو ثابت کرتا ہے۔تاریخ نورالدین صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دہلی سے ارشاد ملا کہ فوراً آ جاؤ۔اسلام کے اولین دور میں صحابہ کرام نے اپنے عمل سے ایسی زریں داستانیں رقم کی آپ اس وقت مطب میں مصروف تھے۔ارشاد سنتے ہی دہلی جانے کے لئے روانہ ہیں جو اپنی عظمت کے اعتبار سے آج بھی زندہ ہیں اور زندگی بخش ہیں۔ہو گئے۔راستہ سے گھر والوں کو پیغام بھجوادیا کہ میں ارشاد کی تعمیل میں اپنے آقا کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک فاقہ زدہ شخص آیا۔اتفاق سے آپ قدموں میں حاضر ہو رہا ہوں۔ریل کے ٹکٹ کے پیسے بھی جیب میں نہ تھے۔اس کے گھر میں اس روز پانی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔آپ نے صحابہ سے کہا کہ کون ہے جو تو کل کا پھل اللہ تعالیٰ نے اس طرح دیا کہ غیب سے غیر معمولی حالات میں اس کے آج اس کی مہمانی کا حق ادا کرے گا؟ حضرت ابوطلحہ نے اس مہمان کو ساتھ لیا اور اسباب مہیا کر دیے اور نورالدین پروانہ وار حاضر خدمت ہو گیا۔اپنے گھر لے آئے لیکن اتفاق ایسا تھا کہ ان کے گھر میں بچوں کے کھانے کے علاوہ حضرت حافظ روشن علی صاحب کی مثال سنئے۔ابتدائی زندگی میں تنگدستی کا یہ اور کچھ نہ تھا۔دونوں میاں بیوی نے بچوں کو بھوکا سلا دیا اور ان کا کھانا مہمان کے عالم تھا کہ آپ کے پاس صرف ایک جوڑا کپڑوں کا ہوا کرتا تھا۔آپ ہر جمعہ کی رات آگے رکھ دیا اور کسی بہانہ سے چراغ بجھا دیا۔مہمان نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا اور وہ جوڑا دھو لیتے اور جمعہ کی صبح کو پہن لیتے تھے۔ایک رات سردیوں کے موسم میں وہ دونوں میاں بیوی نے بھوکے پیاسے رات بسر کی اور مہمان کو اس بات کا احساس جوڑا آپ نے دھویا ہوا تھا کہ رات کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے پیغام تک نہیں ہونے دیا۔کتنا پیارا ایثار تھا حضرت ابوطلحہ اور ان کی بیوی کا کہ صبح کو رسول آیا کہ گورداسپور کرم دین والے مقدمے کی پیشی کے لئے ابھی روانہ ہونا ہے آپ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بشارت دی کہ عرش پر خدا بھی تمہارے اس فعل سے بھی آجائیں۔حضرت حافظ روشن علی صاحب کی اطاعت اور فرمانبرداری کا نمونہ بہت خوش ہوا۔دیکھئے کہ آپ نے وہ کپڑے گیلے ہی پہن لئے اور سردی سے بچاؤ کے لئے اوپر سے ایک جنگ میں تین صحابہ سخت زخمی ہو گئے۔پیاس کی شدت سے جان بلب لحاف لے لیا اور فوراً حضور کے ساتھ چل پڑے۔تنویر القلوب جلد اوّل صفحہ 117) تھے۔ایک صحابی کو پانی پیش کیا گیا تو اُن کی نظر دوسرے پیاسے پر پڑی۔فرمایا پہلے اطاعت اور فرمانبرداری اس کو کہتے ہیں۔نہ کوئی معذرت نہ کوئی عذر اور نہ ہی اُسے دو۔دوسرا پانی پینے لگا تو تیسرے پر نظر پڑی۔کہ وہ پیاس سے بے تاب ہے کوئی وضاحت یا تاخیر۔ارشادسنا اور اس کی تعمیل کو سعادت جانا۔قرآن کریم میں انصار صحابہ کرام کی تعریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔وَ يَوْ ثِرُونَ عَلَىٰ اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَا صَة اُس نے کہا کہ پہلے تیسرے کو پانی پلاؤ۔پانی پلانے والا اس تیسرے کے پاس آیا تو وہ شہید ہو چکا تھا۔جلدی میں دوسرے کی طرف کو ٹا تو وہ بھی دنیا سے رخصت ہو چکا تھا۔پہلے کی طرف جلدی سے پلٹا تو دیکھا کہ وہ بھی جام شہادت نوش کر چکا ہے! ایسا کہ ایسے نیک بندے ہیں جو اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں باوجود ایثار دنیا کی تاریخ میں یقیناً بے مثال ہے کہ ہر ایک دوسرے کو اپنی ذات پر مقدم رکھتا اس کے کہ انہیں خود تنگی در پیش ہوتی تھی۔ایثار کی یہ خوبی اسلامی اخلاق فاضلہ میں ہے اور تینوں ہی یکے بعد دیگرے اپنی جانیں نچھاور کر دیتے ہیں۔