علم و عمل

by Other Authors

Page 10 of 20

علم و عمل — Page 10

17 16 حضرت معاذ بن جبل کو جوانی کے زمانہ میں رسول پاک حضرت محمد مصطفے صلی آپ فرماتے ہیں کہ اس کشفی تادیب و تنبیہ سے مجھے ہمیشہ کے لئے ایک مفید اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر یہ دعا سکھائی کہ خدایا مجھے حسن عبادت کی توفیق عطا سبق مل گیا۔فرما۔چنانچہ معاڈ نے اس نصیحت اور دعا کو بڑی وفا کے ساتھ عمل کے سانچے میں ( حیات قدسی صفحہ 39) دوسرا واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک دوست کسی کام سے مجھے ڈھالا اور خوب عبادت کے حق ادا کئے۔ذکر آتا ہے کہ راتوں کو اُٹھ کر نماز تہجد میں اپنے گاؤں لے گیا۔اس کے اصرار پر رات اس کے ہاں قیام کیا۔اتفاقاً اس بڑے ہی پیار سے یوں مناجات کیا کرتے کہ اے میرے اللہ ! لوگوں کی آنکھیں سو دوست کو کسی کام کے لئے رات گھر سے باہر جانا پڑا۔جاتے ہوئے اس نے گھر میں چکی ہیں ، ستارے ڈوب گئے ہیں جب کہ تو زندہ اور ہمیشہ قائم رہنے والی ہستی میری مہمان داری کے متعلق مناسب تلقین کر دی۔اس کے جانے کے بعد اس کی ہے۔اے اللہ! میری جنت کی طلب ست ہے اور میں آگ سے دُور بھاگنے میں بیوی نے جو خوب صورت اور جوان تھی مجھے آواز دی کہ میں آپ کا جسم دبانے کے بہت کمزور ہوں۔اے اللہ ! اپنے پاس میرے لئے ایسی ہدایت محفوظ رکھ جو مجھے لئے اندر آنے کی اجازت چاہتی ہوں۔میں نے کہا کہ غیر محرم مرد کو ہاتھ لگا ناسخت قیامت کے دن لوٹا دے۔یقیناً تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ایک بار بیمار ہوئے تو گناہ ہے اس لئے آپ اپنے کمرہ میں ہی رہیں۔میرے پاس آنے کی جرات نہ ان الفاظ میں دعا کی کہ اے اللہ ! مجھے تو بس تیرا ہی غم ہے۔تیری عزت کی قسم تو جانتا کریں۔اس عورت نے اپنی غلطی پر اصرار کیا۔میں نے پھر وہی جواب دیا۔فرماتے ہے کہ مجھے تجھ سے محبت ہے۔اتنا کہا کہ آپ پر غشی طاری ہو گئی۔ہوش آئی تو پھر یہی ہیں کہ جب میں نے محسوس کیا کہ یہ عورت اپنے بدارادہ سے باز نہیں آئے گی تو میں کلمات زبان پر تھے۔(اسد الغابہ جلد 4 صفحہ 377) نے وضو کر کے مصلی بچھا لیا اور نماز پڑھنی شروع کر دی۔نماز کے رکوع اور سجود کو اتنا عبادت اور تقویٰ شعاری کے ضمن میں مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لمبا کیا کہ ساری رات نماز میں گزرگئی اور اسی حالت میں صبح ہو گئی۔نماز فجر پڑھتے ایک بزرگ رفیق حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کے دو ایمان افروز ہی مجھے اتنی نیند آئی کہ میں مصلی پر سو گیا۔خواب میں دیکھا کہ میرا منہ چودھویں واقعات یاد آئے جو اپنے اندر عظیم درس نصیحت رکھتے ہیں۔پہلا واقعہ اس زمانے کا رات کے چاند کی طرح روشن ہے اور ایک فرشتہ نے بتایا کہ یہ تمام فضل اس مجاہدہ ہے جب آپ نئے نئے احمدی ہوئے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ میرا گزر ایک شہر نفس اور خشیت اللہ کی وجہ سے ہوا ہے اور اس وجہ سے کہ آج رات تو نے تقویٰ سے ہوا تو اچانک میری نظر ایک اونچے مکان پر پڑی جہاں ایک خوبصورت عورت شعاری سے گزاری ہے۔“ بال بکھیرے ہوئے کھڑی تھی۔میرے دل میں اس کو دوبارہ دیکھنے کی ہوس پیدا ( حیات قدسی صفحہ 38) اطاعت اور فرمانبرداری دین حق کی ایک بنیادی تعلیم ہے۔دین حق کا مطلب ہوئی۔تو اس رات خواب میں میں نے دو فرشتوں کو دیکھا۔ایک فرشتہ دوسرے کو ہی فرمانبرداری ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔کہ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا (تعاين :17) مخاطب کرتے ہوئے میری نسبت یہ کہہ رہا تھا کہ : یہ شخص دیانت وامانت میں تو بہت ہی اچھا ہے بشرطیکہ اس کی نظر لک الاولیٰ سے تجاوز کر کے علیک الثانی تک نہ پہنچے ایک مسلمان کی شان یہ ہے کہ اس کی زبان پر ہمیشہ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کے الفاظ ہوں اور اس کا عمل اس کے مطابق ہو۔ایک صحابی نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادسنا کہ بیٹھ جاؤ۔بظاہر مخاطب لوگ کوئی اور تھے لیکن وہ صحابی اسی جگہ بیٹھ گئے اور