علم و عمل

by Other Authors

Page 12 of 20

علم و عمل — Page 12

21 20 حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی روایت ہے کہ ایک دفعہ جلسہ سالانہ کھانا کھلایا۔تیسرے روز بھی وہ یہیں رہا حالانکہ حضرت صاحب یہاں نہیں تھے۔پر بہت مہمان آئے جن کے پاس سرمائی بستر نہ تھے۔موجود بستر ختم ہو جانے پر میں اس کو لے کر قریبی گاؤں گیا اور اُس کو ایک دکان پر بٹھا کر گھر گھر جا کر لوگوں منتظمین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر کے اندر سے بستر منگوانے شروع سے دانے مانگے۔جب ایک سیر کے قریب دانے ہو گئے تو کسی کے گھر جا کر چکی کئے اور مہمانوں کی ضروریات پوری کی گئیں۔منشی صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں سے انہیں پیسا اور آٹا لے کر اس کے ساتھ قادیان آیا اور روٹی پکوا کر اس کو کھلائی۔عشا کے بعد گھر کے اندر حاضر ہوا تو میں نے یہ نظارہ دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ چوتھے روز وہ خود چلا گیا۔کسی نے حافظ معین الدین صاحب سے پوچھا کہ آپ نے یہ گداگری کیوں ” میں نے اپنے واسطے تو گداگری کبھی نہیں کی مگر مہمان کو روٹی السلام سردی کی وجہ سے بغلوں میں ہاتھ دیے بیٹھے تھے۔ساتھ ہی صاحبزادہ محمود لیٹے ہوئے تھے۔جن کے اوپر مسیح پاک نے اپنا چوغہ اتار کر دیا ہوا تھا۔معلوم ہوا کہ کی؟ تو آپ نے فرمایا۔مسیح پاک علیہ السلام نے اپنا اور بچوں کا لحاف اور بچھونا ،سب کا سب مہمانوں کے لئے بھجوا دیا تھا۔منشی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ آپ کے پاس تو کوئی ایک بستر بھی نہیں رہا جبکہ سردی بہت زیادہ ہے آپ نے فرمایا۔66 کھلانی تو ضروری تھی۔“ ( رفقائے احمد جلد 13 صفحہ 310) قرآن مجید میں بار بار اس بات کی تاکید آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر منشی صاحب ! مہمانوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔اور ہمارا کیا ہے۔رات کسی نہ کسی طرح گزرہی جائے گی۔‘“ ( رفقاء احمد جلد 4 صفحہ 113) اپنے اموال خرچ کرو۔انفاق فی سبیل اللہ کو مذہب اسلام میں جہاد کا درجہ حاصل اور اب سنئے حضرت مسیح پاک کے ایک تربیت یافتہ اور بے لوث خدمت گزار ہے۔مال کی محبت انسان کی طبیعت میں رچی بسی ہوئی ہے۔محنت سے کمائے ہوئے حضرت حافظ معین الدین صاحب کا ایک دل گداز واقعہ۔ان کا واقعہ سنتے ہوئے مال کو راہ خدا میں خرچ کرنا ہر زمانہ میں ایک امتحان رہا ہے اور بالخصوص مادی ترقی ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ ہم ان کی جگہ ہوتے تو کیا ہم بھی ایسا کے اس دور میں تو انسان کے ایمان کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ راہ خدا میں خرچ ہی کرتے؟ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار جب حضرت مسیح پاک علیہ السلام جالندھر کرنے والا ہے یا نہیں۔ہاں وہ لوگ جو اس بات پر محکم یقین رکھتے ہیں کہ دولت کا تشریف لے گئے تو مجھے حکم دیا کہ تم ہمارے مکان میں رہنا۔خرچ کے لئے ایک چونی دینے والا خدا ہے یہ ہماری کوشش اور محنت کا نتیجہ نہیں ، ان کے لئے یہ مرحلہ بہت مجھے دے گئے اور ساتھ ہی فرمایا کہ اگر کچھ قرض کسی سے لو گے تو میں آکر ادا کر دوں آسان ہو جاتا ہے۔وہ کھلے دل کے ساتھ پوری بشاشت کے ساتھ راہ خدا میں خرچ گا۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میں کبھی منگل گاؤں میں جا کر روٹی کھالیتا اور کبھی درختوں کرتے ہیں اور خرچ کرتے چلے جاتے ہیں اور سجدات شکر بجالاتے ہیں کہ ہمارے کے پتے کھا کر دن گزار دیتا۔ایک روز ہشیار پور سے ایک مہمان آ گیا۔میں نے اس مولی نے ہمیں توفیق دی ہے۔کو کہیں سے روٹی لا کر کھلائی۔صبح کے وقت اپنے ہمسایہ کے گھروں سے آٹا مانگ کر انفاق فی سبیل اللہ کے واقعات سے تاریخ اسلام بھری پڑی ہے۔صحابہ کرام اور ایک دوسرے گھر سے روٹی پکوا کر اس کو کھلائی۔اور اسی طرح شام کو بھی اس کو نے اس اسلامی تعلیم پر جس طرح دل و جان سے عمل کیا وہ تاریخ عالم میں بے مثل