اِعجاز المسیح — Page 91
اعجاز المسيح ۹۱ اردو تر جمه الأعناق و تنقطع الأسباب كلها گے۔اور سب اسباب منقطع ہو جائیں گے۔اور وترجع الأمور إلى مالك تمام امور مالک الملک خدا کی طرف لوٹ جائیں الأملاك۔وعـد مـن الله حق گے۔یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اُس وعدے کی طرح جو كمثل وعد تم فى آخر زمن بنی بنی اسرائیل کے آخری زمانے میں پورا ہوا۔جب إسرائيل۔إذ بعث فيهم عيسى بن اُن میں عیسی ابن مریم مبعوث کئے گئے۔اور مريم فأشاع الدين من غير أن انہوں نے رب جلیل کے نافرمانوں کو قتل کئے بغیر يقتل من عصى الربّ الجليل۔وكان في قدر الله العلي العليم۔دین کی اشاعت کی۔اور یہ خدائے علیم و برتر کی أن يجعل آخـر هـذه السلسلة تقدیر میں تھا کہ وہ اس سلسلہ(محمدیہ) کے آخر كآخر خلفاء الكليم۔فلأجل کو بھی موسیٰ کلیم اللہ کے خلفاء کے آخر جیسا ذالك جـعـل خـاتـمـة أمـرهـا بنائے۔اسی وجہ سے اُس نے اس سلسلہ کے انجام کو مستغنيـة مـن نـصر الناصرین دیگر مددگاروں کی مدد سے مستغنی رکھا اور اسے | ومظهر الحقيقة مالك يوم مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کی حقیقت کا مظہر بنادیا جیسا الدين۔كما يأتی تفسیره بعد کہ تھوڑی دیر بعد اس کی تفسیر آئے گی۔اس کلام کا حين۔ومن تتمة هذا الكلام۔أن تتمہ یہ ہے کہ ہمارے نبی خیر الا نام جبکہ خاتم النبین 119 نبينا خير الانام لما كان خاتم برگزیدوں کے برگزیدہ اور حضرت کبریاء کو تمام الانبياء واصفي الأصفياء۔لوگوں سے زیادہ محبوب ہیں تو اللہ سُبحَانَهُ تَعَالَى وأحبّ الناس إلى حضرة الكبرياء۔نے ارادہ فرمایا کہ وہ آپ میں اپنی دو عظیم صفات أراد الله سبحانه أن يجمع فيه طور پر جمع فرمائے چنانچہ اُس نے آنحضور کو صفتيه العظيمتين على الطريقة الظلية۔فـوهـب لـه اسم محمد محمد اور احمد نام عطا فرمائے تا کہ یہ دونام واحمد ليكونا كالظلين رَحْمَانِیت اور رحیمیت کے لئے بطور ظل للرحمانيّة والرّحيمية۔ولذالك ہوں۔اسی لئے اس نے اپنے قول ار فی قوله اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں اس إيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۔طرف اشارہ فرمایا کہ ایک عابد کامل کو اللہ أشار